مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 88
ނ میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 88 سے متعلق بہت سے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہتے۔مسیح کی موت واقع ہونے کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے اس کا ایک ہی مطلب بنتا ہے اور وہ یہ کہ اس کا روحانی جسم یا یوں کہہ لیں کہ اس کی روح اس کے انسانی جسم کے مادی پنجرہ سے آزاد ہو کر اس میں سے پرواز کر گئی تھی۔اگر یہ سچ ہے اور ایسا ہی ہوا تھا تو اس کے زندہ ہونے کا یہ مطلب لینا ہو گا کہ اس کا روحانی وجود اسی مادی جسم میں پھر لوٹ آیا تھا جسے اس نے تین دن پہلے چھوڑ کر اس سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تھا۔مادی زندگی کو اگر وقت بتانے والی گھڑی سے تشبیہ دی جائے تو مردہ جسم میں روح کی ایسی واپسی مادی زندگی کی گھڑی کو دوبارہ چالو کرنے اور اس کی مسلسل جاری رہنے والی تک تک کو از سر نو بحال کرنے کے مترادف ہو گی۔اگر ایسا ہی وقوع میں آیا تھا تو مانا پڑے گا کہ مردہ دماغ کے بکھر جانے اور تتر بتر ہو جانے والے منتشر خلیے یکدم دوبارہ مجتمع ہو کر زندہ ہو گئے ہوں گے۔اور ٹوٹ پھوٹ کے تیز رفتاری سے فوری طور پر جاری ہو جانے والے پورے عمل کو ایکا ایکی الٹا چکر کھا کر پھر معدوم ہو جانے والی اسی گمشدہ نہج پر واپس لوٹنا پڑا ہو گا۔اگر عقیدہ کے طور پر اس بات کو درست مان لیا جائے تو عمل اور رد عمل نیز اسباب و علل کے نقطۂ نگاہ سے ایک بہت ہی گھمبیر اور مہیب مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔یہ گھمبیر اور مہیب مسئلہ علم حیاتیات کے عیسائی کیمیا دانوں کے لئے ہمیشہ ایک چیلنج بنارہے گا کہ وہ اس عقدہ کو حل کرنے کی خاطر ایسا ہونے یا ہو سکنے کے عملی اور تجرباتی ثبوت مہیا کر کے دکھائیں۔مرکزی اعصابی نظام میں زوال و انحطاط اور ٹوٹ پھوٹ کے پورے عمل کا یکدم پالٹا کھا جانا اور زندگی کی آئینہ دار اصل حالت کا پھر عود کر آنا ایک ایسا عقد ہ لا یخل ہے جو طبی ماہرین اور سائنسدانوں کے تخیل کی انتہائی بلند پروازی اور اس کے پھیلاؤ کی ممکنہ ہمہ گیری کی رسائی سے باہر ہے۔بفرض محال اگر کبھی ایسا ہونا اور ایسا ہو سکنے کے امکان کو درست تسلیم کیا گیا تو اس سے سائنس کی تغلیط ہی لازم نہیں آئے گی بلکہ خدا کے خود اپنے بنائے ہوئے قوانین قدرت مذاق بنے بغیر نہ رہیں گے۔بایں ہمہ یہ ایک ایسا معجزہ ہو گا جس سے پیش آمدہ مسئلہ پھر بھی حل نہ ہو سکے گا اور جوں کا توں عقد ہ لا یخل بنا رہے گا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسے رنگ میں دوبارہ زندہ ہو جانے کا مطلب کیا ہو گا؟ یہ مطلب ہو گا کہ مرکزی اعصابی نظام کے ٹوٹ پھوٹ جانے والے خلیے از سر نو زندہ ہو گئے اور ان کے مابین نئی ترتیب و تشکیل نے ظہور میں آکر انہیں دوبارہ متحرک کر دکھایا۔دوبارہ تعمیر و تشکیل اور ان میں قائم ہونے والی نئی