مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 85

85 صلیب اور اس سے متعلقہ امور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب موت واقع ہوئی تو اس کے ساتھ بلکہ کہنا یہ چاہیے کہ ان دونوں یعنی خدا اور اس کے اندر موجود انسان مسیح کے ساتھ کیا کیا؟ کیا موت وارد ہونے پر انسان اور خدا دونوں کی روحیں قبض کر لی گئی تھیں اور پھر اکٹھی ہی دوزخ میں رہنے کے بعد اسی سفلی جسم میں واپس لوٹ آئی تھیں؟ یا کیا بصورت دیگر ہوا یہ تھا کہ صرف خدا کی روح جو مسیح میں در آئی تھی وہ انسانی روح کے بغیر ہی انسانی جسم میں عود کر آئی ؟ اگر ایسا ہی ہوا تو پھر انسان استعجاب میں ڈوبے بغیر نہیں رہتا کہ وہ دوسری روح (یعنی مسیح کی انسان روح) کہاں جا غائب ہوئی؟ کیا اس روح کا دوزخ میں سفر ایک لامتناہی سفر تھا اور جس سے واپسی ممکن نہ تھی ؟ پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو خدائی روح اس کے اندر صرف تین دن رات مقید رہی وہ مسیح کے باپ خدا کی روح تھی یا یہ کہ وہ روح تھی اس بیٹے مسیح کی؟ صحیح صورت حال ہمارے سامنے آنے اور ہمیں اس سے آگاہ کرنے کے لئے اس سوال کا ایک ہی دفعہ یعنی حتمی طور پر ہمیشہ ہمیش کے لئے حل ہونا ضروری ہے کہ کیا مسیح کا جسم جزوی طور پر خدا کا جسم تھا اور جزوی طور پر وہ تھا انسان کا جسم؟ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید ہر دو کا مطالعہ ہمیں خدا کے جس تصور یا تخیل سے ہمکنار کرتا ہے وہ ایک غیر مجسم اور غیر محدود ازلی ابدی ہستی کا تصور ہے۔اس کی ہستی یا وجود میں مادہ کا سرے سے کوئی عمل دخل ہے ہی نہیں۔یہ بات سمجھ لینے اور ذہن نشین کر لینے کے بعد ہم پھر پلٹ کر مسیح کی طرف دیکھتے ہیں یعنی مریم کے رحم میں جنین کی حالت کے بعد اس کے مختلف مراحل میں سے گزر کر اس کی نشو و نما کا تخیلی جائزہ لیتے ہیں۔وہ تمام مادہ جو مسیح کے بنے اور معرض وجود میں آنے کا موجب بنا تھا اسے انسان ماں نے مہیا کرنا تھا اور ایک چپہ بھی مادہ کا خدا کی طرف سے اس میں شامل نہ ہونا تھا۔یقیناً خدا اسے معجزانہ طور پر پیدا کر سکتا تھا لیکن میرے نزدیک تخلیق خواہ معجزانہ طور پر ظہور میں آئے یا وہ خدا کے مقرر کردہ عام قدرتی ذرائع کے مطابق ظہور پذیر ہو بہر صورت و بہر حال وہ ہوتی تخلیق ہی ہے۔ہم کسی کو صرف اس صورت میں ہی کسی کا باپ تسلیم کر سکتے ہیں جبکہ اسے وجود میں لانے کے عمل میں باپ کا جو ہر اور ماں کا جوہر مساویانہ حیثیت میں یا جزوی طور پر حصہ لیتے ہیں تاکہ بیٹے کے جسم کا کچھ نہ کچھ جوہری جزو باپ کے جو ہر سے بھی ماخوذ قرار پاسکے۔اس عام فہم بات سے ایک قاری پر یہ امر بالکل واضح ہو جانا چاہیے کہ انسانی جنین کی پیدائش کے مرحلہ وار قدرتی طریق کار میں خدا نے باپ والا کر دار قطعاً ادا نہیں کیا۔عناصر میں ظہور ترتیب یعنی خلیوں