مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 66

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 66 ایمان رکھتے ہیں در آنحالیکہ وہ عقائد ان کی سمجھ سے بالا ہوتے ہیں اور وہ خود ان کی وضاحت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ایسے عقائد انہیں نسلاً بعد نسل ورثہ میں مل رہے ہوتے ہیں اور ان کا عام رویہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تو پہلے سے تسلیم شدہ عقائد ہیں۔لہذا ان کے بارہ میں بحث یا غور کرنا بے فائدہ ہے لیکن ایسے رازوں پر مبنی عقائد کو درست تسلیم کرنے اور ان پر ایمان لانے کا معاملہ دیگر ہے کیونکہ ایسے رازوں کو نا قابل تردید حتمی شواہد کی پوری پوری تائید حمایت حاصل ہوتی ہے لیکن جب مذہبی عقائد میں مہمل و متناقض اچنبے اور عجوبے راہ پا جائیں تو پھر ان کے بارہ میں یہ عذر قبول نہیں کیا جاسکتا کہ قدرت کے بعض فہم و ادراک سے بالا رازوں پر ایمان لانا اس امر کا جواز پیدا کرتا ہے کہ مہمل و متناقض اچنبوں اور یکسر انہونی باتوں پر بھی آنکھ بند کر کے ایمان لے آیا جائے۔ایسا انوکھا جواز پیچیدگیوں، الجھنوں اور گنجلکوں کو جنم دینے کا موجب بنتا ہے۔میں بعض واضح شواہد کی موجودگی میں ایک ایسی بات پر ایمان لا سکتا ہوں جس کی کُنہ و کیفیت کو میں سمجھتا نہیں لیکن میں کسی ایسی بات یا مبینہ واقعہ پر ایمان نہیں لا سکتا جو اپنی ذات میں تضادات کا مجموعہ ہو۔اور نہ ہی کوئی اور شخص جس کے ہوش و حواس قائم و بر قرار ہوں فی ذاتہ ایسی متناقض و متضاد بات پر ایمان لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔مثال کے طور پر میرے لیے یہ چیز تو سمجھ سے بالا ہو سکتی ہے کہ ایک گھڑی کس طرح بنتی ہے لیکن اپنے اس عدم علم کی بنا پر مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں از خود یا کسی کے کہنے میں آکر اس بات پر بھی یقین کرلوں یا ایمان لے آؤں کہ وقت بتانے والی گھڑی ساتھ کے ساتھ ایک جیتا جاگتا بھونکنے والا شور مچانے والا کتا بھی ہے۔ایسا سمجھنا کسی ایسے عقیدہ پر ایمان لانا نہیں ہے جو پردہ راز میں لپٹا ہوا ہو بلکہ یہ تو ایک کھلا کھلا مبرهن تناقض ہے اور تمام تر ناگواری کے باوجود جیتی مکھی کھانے کے مترادف ہے۔جب خدا کی طرف منسوب کی جانے والی دو یا دو سے زیادہ صفات میں باہم تناقض و تضاد ہو اور جب خدا کا قول اور فعل مبینہ طور پر اس درجہ بے میل اور بے جوڑ ہو کہ دونوں میں واضح تبائن ظاہر ہوئے بغیر نہ رہے تو پھر ان پر ایمان لانا بھید اور راز کی حدوں کو پھاند نے اور اس سے بہت آگے اور دور نکل جانے کے مترادف ہے۔ایسا انسان راز اور بھید کے دائرہ سے نکل کر سر اسر تو ہمات کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔جب بعض لوگوں کا اپنے عقائد کی بنا پر توہمات کے چکر میں پھنسنا ثابت ہو جائے تو پھر توقع کے رنگ میں ان سے یہ مطالبہ کرنا ایک لازمی اور قدرتی امر ہے کہ وہ اپنے عقائد پر نظر ثانی کریں اور اپنے اعتقادات کی اصلاح کرنے پر آمادہ ہوں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب عیسائی پادریوں اور منادوں سے سمجھانے