مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 61
باب سوم رُوح القدس کا عمل و کردار اب تک ہم نے جس مسئلہ کے بارہ میں بات کی ہے اس کا تعلق خدا کے نام نہاد بیٹے مسیح سے تھایا پھر اس مفروضہ سے کہ خدا مسیح کا حقیقی باپ ہے لیکن اس ضمن میں ایک تیسری ہستی کا ذکر بھی ضروری ہے اور اس ہستی کا نام ہے روح القدس۔مسیحی عقیدہ کی رو سے روح القدس اپنی علیحدہ اور جداگانہ شخصیت بھی رکھتا ہے اور اس کے باوجود وہ ”باپ “ اور ”بیٹے“ کے ساتھ پیوست بھی ہے اور پیوست بھی ہے اس طرح کہ ازلی طور پر ان میں مدغم ہے اور اس انداز سے مدغم ہے کہ ان تینوں کا ایک دوسرے میں ادغام ”تین میں ایک “ والی کیفیت یعنی ان تینوں کی باہم ایک اور اکیلی حیثیت کو اجاگر کر دکھاتا ہے۔چنانچہ اب ہم اپنی توجہ کو بطور خاص اس نئے مسئلہ کی طرف پھیر کہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا خدا اور مسیح کی اپنی اپنی خودی سے علیحدہ روح القدس کی بھی اپنی کوئی علیحدہ خودی ہے۔یہاں خودی سے مراد فی الاصل وہ شعور ذات ہے جو آخری اور حتمی تجزیہ کی رو سے غیر منقسم ہوتے ہوئے اپنی انفرادی حیثیت میں ہر فرد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو ہر فرد کا دوسرے تمام افراد سے الگ اور ممیز ہونے کا شعور ہی غائب و حاضر اور مخاطب و متکلم کی الگ الگ حیثیتوں میں وہ “ اور ”اس کا نیز ”تم “ اور ”تمہارا“ کے بالمقابل ”میں“ اور ”میرا“ کی تمیز کو جنم دیتا ہے اور اس طرح ان کے درمیان پایا جانے والا امتیاز بین طور پر نمایاں ہوئے بغیر نہیں رہتا۔تثلیث کے تینوں اجزا یا اقانیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہمیں یہ امر طے کرنا ہے کہ آیا تینوں اقانیم اپنی جداگانہ خودی یعنی اپنی اپنی ہستی کا علیحدہ علیحدہ شعور رکھتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ اپنی ذات کا الگ الگ شعور نہیں رکھتے تو پھر ان سے ان کی علیحدہ علیحدہ شخصیتوں کو منسوب کر نانا قابل فہم بنے بغیر نہیں رہتا۔ہر شخص دوسرے شخص یا ہستی کے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اس کا اس انتہائی قربت کے باوجود اپنی ذات کے علیحدہ شعور سے متصف ہونا ضروری ہوتا ہے۔تثلیث کے بارہ میں اکثر کلیسیائی فرقوں کا اپنا سر کاری یعنی با قاعدہ طور پر اختیار کردہ مشتر که موقف