مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 53
53 گناہ اور کفارہ اس کا دوٹوک جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے خود کیوں نہ دکھ جھیلا؟ گناہ کی معافی کا قدیمی مسئلہ حل کے کے لئے ایسا پیچیدہ اور مشکل منصوبہ بنانے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟ آگ کی سزا دوزخ کا معاملہ ذرا نازک معاملہ ہے۔یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کا زیادہ قریب سے اور پوری توجہ سے جائزہ لیا جائے۔یہاں ہماری مراد اس دوزخ سے ہے جس میں عیسائیوں کے عقیدہ کی رو سے مسیح کو ڈالا گیا تھا۔دیکھنا یہ چاہیے کہ وہ کس قسم اور نوعیت کی دوزخ تھی۔کیا یہ وہی دوزخ تھی جس کا ذکر عہد نامہ جدید میں آتا ہے اور خود انجیل یعنی عہد نامہ جدید کے الفاظ میں یہ ہے: ”ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ سب ٹھو کر کھلانے والی چیزوں اور بدکاروں کو اس کی بادشاہی میں سے جمع کریں گے اور ان کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔وہاں رونا اور دانت پینا ہو گا۔“ (متی باب 13 آیت 42،41) اس بارہ میں مزید غور کرنے سے قبل بغیر کسی ابہام کے واضح طور پر یہ بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ عہد نامہ جدید کی رو سے آگ کی سزا یا بالفاظ دیگر دوزخ کی سزا سے کیا مراد ہے۔کیا یہ ایک ایسی آگ ہے جو روح کو جلاتی ہے یا یہ ایک ایسی مادی آگ ہے جو جسم کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔کیا مسیحی حضرات اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ موت کے بعد ہم اسی جسم میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے جسے روح اس کے مٹی میں مل کر مٹی ہو جانے یا راکھ بن جانے کے بعد پیچھے چھوڑ جاتی ہے یا یہ کہ موت کے بعد روح کے لئے ایک نیا جسم پیدا کیا جائے گا اور دوبارہ جی اٹھنے والا شخص ایک نیا جسم عطا ہونے کے تجربہ میں سے گزرے گا؟ اگر دوزخ کی آگ مادی اور جسمانی آگ ہے اور یہ بدنی سزا پر دلالت کرتی ہے تو پھر ہمیں اپنے خیال اور تصور کو پھیلا کر ایک خاص حد تک لے جانا ہو گا اور وہ حد یہ ہے کہ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ مسیح کے معاملے میں (جبکہ اسے دوزخ میں ڈالا گیا) کیا ہوا ہو گا اور اس پر کیا بیتی ہو گی ؟ کیا آگ میں پڑنے سے قبل مسیح کی روح اسی مادی جسم میں پھر مقید کر دی گئی تھی جو دنیا میں زندگی بھر اس پر مسلط رہ کر اس کا ساتھ دیتی رہی تھی؟ یا ایسا ہوا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اسے غیر مرئی نوعیت کے آسمانی جسم میں منتقل کر دیا گیا تھا؟ اگر اس مؤخر الذکر بات کو درست مانا جائے تو یہ بھی ماننا ہو گا کہ وہ آسمانی جسم جہنم کی مادی آگ کی پہنچ سے باہر رہا ہو گا یعنی وہ جلنے ، سزا پانے اور بھسم ہو جانے سے محفوظ رہا ہو گا؟ بر خلاف اس کے اول الذکر صورت میں