مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 41

41 گناہ اور کفارہ آنا عین ممکن ہے۔ایسا نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ہی باہم ضد کے طور پر ایک دوسرے کی تردید کرتے نظر آئیں۔بعض اوقات خود عدل کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ معاف کر دینا ضروری ہے اور بر خلاف اس کے بعض حالتوں میں خود عدل اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ معافی نہ دی جائے۔اگر ایک بچہ کے ساتھ ہمیشہ ہی معافی کا سلوک روارکھا جائے اور اس طرح مزید جرائم کے مرتکب ہونے میں اس کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے تو ایسی صورت میں معافی خود اپنی ذات میں جرائم کی افزائش اور حاشیہ آرائی کا موجب ہو گی۔ظاہر ہے ایسا کرنا عدل کی روح کے سراسر منافی ہو گا۔اگر ایک عادی مجرم کو معاف کر کے اسے مزید جرائم کے ارتکاب کا موقع دیا جائے اور اس طرح معافی کے ذریعہ گردو پیش دکھوں اور مصیبتوں کی افزائش کے سلسلہ میں اس کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا جائے تو ایسا طرز عمل تقاضائے عدل کے برخلاف ہوتے ہوئے معصوم شہریوں کے خلاف ایک ظالمانہ اقدام کے مترادف قرار پائے گا۔اب اگر دیکھا جائے تو اسی قماش کے لاتعداد اور بے شمار مجرم ایسے ہیں جن کے حق میں مسیح کا کفارہ ایک پناہ گاہ ہی نہیں کمین گاہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ظاہر ہے یہ ناگوار صورت حال عدل کے سراسر منافی ہے۔بہر صورت و بہر حال کفارہ پر زور دینا نیز پشیمانی اور معافی کو سرے سے کوئی اہمیت نہ دینا درست نہیں ہے۔اس کا درست نہ ہونا ایک مثال سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے اور وہ مثال یہ ہے کہ اگر بچہ پشیمان ہو کر اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور ماں کو یقین ہو جاتا ہے کہ بچہ اس جرم کا دوبارہ ارتکاب نہیں کرے گا اس کے باوجود بچہ کو سزا دینا عدل کی روح کے برخلاف ہو گا۔جب ایک پشیمان شخص پشیمانی کی اذیت میں سے گزرتا ہے تو ایسی پشیمانی خود اپنی جگہ سزا سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔بعض حالتوں میں تو ایسی پشیمانی بجائے خود باہر سے عائد کردہ سزا سے کہیں بڑھ کر اذیت ناک بن جاتی ہے۔جن لوگوں کا ضمیر زندہ ہو اور ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ پشیمانی کے زیر اثر بہت دکھ محسوس کرتے ہیں۔وہ اندر ہی اندر کچھ کم اذیت نہیں اٹھاتے۔بسا اوقات ضمیر کے مسلسل کچوکوں کی اذیت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ قوت برداشت کی آخری حد کو چھونے لگتی ہے۔ایسی صورت میں عین ممکن ہو جاتا ہے کہ خدا ایسے بار بار قصور کرنے اور بار بار پشیمان ہونے والے کمزور بندہ پر رجوع بر حمت ہو اور اس کے گناہ بخش دے۔عدل اور معافی کے اس باہمی تعلق میں ایک ایسا عام فہم سبق مضمر ہے جسے ایک ہمہ گیر انسانی تجربہ کی حیثیت حاصل ہے۔اس کا ادراک کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں رکھنے والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عام سمجھ بوجھ والے انسانوں کے لئے