مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 161

161 مسیحیت آج کے دور میں آتی رہی۔یہ بہت حیران کن بات ہے کہ آپ نے کسی منشی اور کارندہ کی مدد کے بغیر قریباً اکیلے تن تنہا اتنا وسیع لٹریچر کیسے پیدا کر دکھایا؟ جو کتابیں، مکتوبات، مقالہ جات اور رسالے آپ نے تصنیف کیسے ان کی تعداد ایک سو دس کے لگ بھگ ہے۔یہ آپ کے تصنیفی کارنامے ہی نہیں تھے جو پورے بر صغیر میں آپ کی شہرت اور ناموری کا موجب بنے بلکہ آپ کے روحانی اوصاف اور تاثیرات نے بھی وسیع پیمانہ پر آپ کو حاصل ہونے والی شہرت اور عزت و احترام میں بنیادی اہمیت کا کردار ادا کیا۔13 بلند و بالا اور وسیع سے وسیع تر ہونے والی شہرت کے جھٹپٹے میں آپ کو خدا کی طرف سے اس امر پر مامور کیا گیا کہ آپ آخری زمانہ کے مصلح کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔جس کی بعثت کے تمام مذاہب منتظر ہیں۔چنانچہ مسلمانوں کے نقطۂ نگاہ کے رو سے آپ المہدی یعنی خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ مصلح تھے۔نیز عیسائیوں اور مسلمانوں ہر دو کے نقطۂ نگاہ کے رو سے آپ مسیح کی بعثت ثانیہ سے متعلق پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے مسیح موعود تھے۔تاہم خدا کی طرف سے اس عظیم منصب پر فائز کیے جانے کے نتیجہ میں آپ کو اس تمام شہرت اور مقبولیت سے ہاتھ دھونا پڑے جو آپ کو عند الناس حاصل ہوئی تھی۔آخری زمانہ کے لئے خدا کی طرف سے مبعوث کردہ مصلح حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے دعوی ماموریت کو نہ صرف دوسرے مذاہب کے ماننے والوں نے فورا ہی مستر د کر دیا بلکہ خود ہندوستان کے مسلمان یک دم آپ کا ساتھ چھوڑ کر زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے حالانکہ آپ اسلام اور ان کے مفادات کی کمال درجہ جرآت و دلیری اور مہارت سے وکالت کر رہے تھے۔آپ کے لئے عملاً یہ ایک نئی روحانی پیدائش تھی جیسا کہ آپ دنیا میں اکیلے آئے تھے اسی طرح آپ کو مذہب کی دنیا میں بھی اکیلے تن تنہا انسان کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کرنا پڑا۔وہ تمام لوگ جو پہلے حمایتی کی حیثیت سے آپ کے ارد گرد جمع تھے آپ کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہو گئے۔لیکن خدا نے آپ کو نہیں چھوڑا۔لوگوں کی طرف سے انتہائی شدید مخالفت کے باوجود آپ کو خدا کی طرف سے بار بار نازل ہونے والے الہاموں کے ذریعہ یہ یقین دلایا گیا کہ وہ آپ کی تائید و نصرت فرمائے گا۔خدا نے اپنے ایک الہام میں فرمایا: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ 13 اس تعداد میں وہ ہزاروں خطوط شامل نہیں جو آپ نے اپنے معتقدین کو لکھے۔پبلشر