مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 162
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 162 ایک اور موقع پر خدا نے آپ کو الہاماً بتایا: ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ یہ ہیں بعض ابتدائی الہامات جو مخالفوں کی طرف سے رد کیے جانے اور اکیلا چھوڑ دیئے جانے کے دوران آپ کے لئے خاص سہارے اور تقویت کا موجب ہوئے۔اس وقت سے اب ایک سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصہ میں آہستہ آہستہ لیکن کمال تقویت اور دلجمعی کے انداز میں صورت احوال کی جو تصویر ابھری ہے وہ آپ کے دعاوی، پیش گوئیوں اور الہامات کی صداقت کو پوری طرح آشکار کر رہی ہے۔وہ اکیلا شخص بڑھ کر دنیا کے پانچ بر اعظموں میں پھیلے ہوئے 134 ممالک میں اب ایک کروڑ انسانوں کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔اس کا پیغام کیا مشرق اور کیا مغرب ہر طرف زمین کے آخری کناروں تک پہنچ چکا ہے۔امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا میں نیز بحر الکاہل کے جنوب مشرقی حصہ میں واقع دور و دراز جزیروں جیسے نجی، توالو، سولومن وغیرہ میں اسے مہدی اور بعثت ثانیہ کے رنگ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود تسلیم کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اس کے باوجود ابھی اس کے ماننے والوں کے بلحاظ جسامت دنیائے عیسائیت کے سمندر کے بالمقابل ایک بے حیثیت چھوٹا سا تالاب قرار دیا جاسکتا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد کی قائم کردہ جماعت کی کامیابیوں کو تفصیل سے بیان کرنے کی اس مختصر مقالہ میں گنجائش نہیں لیکن اس امر کی طرف بطور خاص توجہ دلانا ضروری ہے کہ موجودہ زمانہ میں کوئی اور مذہبی تحریک ایسی نہیں ہے جس نے آپ کی جماعت کی طرح مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے اس تیزی سے ترقی کی ہو۔آپ کی جماعت کی حیثیت نہ کسی مسلک کی ہے اور نہ یہ مقبول عوام پر شوق مشغلہ کی آئینہ دار ہے۔یہ ایک نہایت سنجیدہ اور اہم پیغام کی حامل ہے اور اس پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لئے انتھک جد وجہد اور نظم وضبط کی ضرورت ہے۔اور اس میں کامیابی سے ہمکنار ہونا پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے مترادف ہے۔جو لوگ اس پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں وہ اپنے اندر عظیم ذمہ داریاں ادا کرنے کا پختہ عزم پیدا کر کے زندگی بھر ان ذمہ داریوں کو نبھاتے چلے جاتے ہیں۔یہ پاکیزگی و طہارت اور اخلاقی اصولوں کی اسی طرح پابندی کی قائل ہے جس طرح ابتدائی ایسین سوسائٹی (Essene Society) کے افراد ان کے پابند تھے۔مسیح موعود علیہ السلام کی حیثیت سے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے دعوی کو تسلیم کرنا رومانوی انداز کے کسی بے قید مشغلہ کی طرح ہنسی کھیل نہیں ہے بلکہ یہ آئینہ دار ہے ایک پختہ عہد کو زندگی