مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 152
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 152 تیزی سے گرتی ہوئی اخلاقی اقدار کو پھر بحالی سے ہمکنار کریں تو پھر دیو مالائی کہانیاں کسی کام نہیں آیا کرتیں۔ان کی حیثیت خیالی پلاؤ یا سہانے سپنوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ایسے خیالی پلاؤ اور سہانے سپنے انسانی معاملات میں کبھی کوئی معنی خیز کردار ادا نہیں کر سکتے۔بالآخر ایک وقت آتا ہے کہ جب ان سے جان چھڑائے بغیر چارہ نہیں رہتا۔مسیح کی بعثت ثانی اب ہم ایک ایسے مرحلہ پر پہنچ چکے ہیں کہ جائزہ کے طور پر یہ بتا اور دکھا سکیں کہ ہم نے اب تک تبصرہ اور تجزیہ کے رنگ میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ عملی اعتبار سے کس حد تک موزوں، بر محل اور بر وقت ہیں۔اس زمانہ میں انسانیت کی بقا کے اہم معاملہ کا یسوع مسیح کی شخصیت سے بہت گہرا تعلق ہے۔اس لئے اس امر کو بے انتہا اہمیت حاصل ہے کہ ہم مسیح کی شخصیت کی اصل حقیقت کو پہچا نہیں۔وہ کیا تھا اور جب پہلی بار وہ آیا تھا تو اس نے یہودیت کے بگڑے ہوئے اور انحطاط پذیر معاشرہ میں کیا کردار ادا کیا؟ اب آخری زمانہ میں اس کے دوبارہ آنے کے وعدہ کو کس قدر سنجیدگی سے لینا اور اسے اہمیت دینا ضروری ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر غور کر کے صحیح نتائج تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔بالفرض اگر یسوع مسیح کی شخصیت حقیقی نہیں تھی بلکہ وہ تھی ہی انسانی تخیل کی پیداوار تو پھر اس کی آمد ثانی کو تصور میں لانا ہی ممکن نہیں رہتا۔اس امر کا تذکرہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ مسیح خواب و خیال کی یداوار نہ تھا۔وہ ایک حقیقی انسان تھا۔انسان ہونے کے ناطے وہ اپنی آمد ثانی کے زمانہ میں بھی ایک انسانی بچہ کے طور پر ہی پیدا ہو سکتا ہے۔نہ یہ کہ کسی بھوت پریت یا ماورائی مخلوق کے طور پر ظاہر ہو محض خواب و خیال میں یہی ہو ئی ہستیاں انسانی زندگی اور اس کے حقائق کا روپ کبھی نہیں دھارا کر تھیں۔جولوگ خواب و خیال اور قصے کہانیوں کی دنیا میں جی رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ممکن نہیں ہو تا کہ جب ان کے درمیان کوئی نجات دہندہ مبعوث ہو تو وہ اسے شناخت کر لیں۔پیدا اگر عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق یسوع واقعی خدا کا بیٹا تھا تو پھر اس کی آمد ثانی کے بارہ میں یہی سمجھا جائے گا کہ وہ بڑی شان اور جاہ و جلال کے ساتھ اپنے فرشتوں کے جلو میں ان پر ہاتھ رکھے واپس آئے گا۔لیکن اگر یہ محض ایک رومانوی خیال آفرینی اور تصور کا نیرنگ کمال ہے تو ایسی صورت میں بڑی شان اور جاہ و جلال کے ساتھ واپس آنے کا واقعہ کبھی پیش نہیں آئے گا۔دنیا اس انوکھے واقعہ کو رونما ہوتے ہوئے کبھی نہ