چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 109
1-9 اسے مہدی یعنی ہدایت یافتہ کہنے کی بجائے کا فر وملحد اور اقبال کہیں گے سو یہ نام پہلے سے بطور دفاع کے مقرر کیا گیا تھا جیسا کہ خدا نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لاکھوں برس پہلے عرش پر محمد رکھا کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ قریش مکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مذمم کہہ کر پکاریں گے۔چنانچہ بخاری شریف (باب ما جاء فی اسماء الوتسول میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جن کے کے شریروں کے اس فعل سے اطلاع ہوئی تو حضور نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرا نام تو محمد ہے اور جو محمد ہو وہ مذمم کیسے ہو سکتا ہے ؟ دیکھو خدا نے مجھے اُن کی گالیوں سے کس طرح محفوظ رکھا۔آنحضور کی روحانی اور مقناطیسی قوت کا یہ زبر دست کمال ہے کہ صدیوں بعد پیدا ہونے والے صوفیاء، مجددین بلکہ بعض علما ء ظواہر نے بھی مہدی کے نام میں پوشیدہ اِس لطیف اشارہ کو خوب سمجھا۔چنانچہ سرتاج الصوفیاء حضرت محی الدین ابن عربی نے پیش گوئی فرمائی : إذا خَرَجَ هَذَا الإِمَامُ الْمَهْدِى فَلَيْسَ لَهُ۔عدو مبين إِلَّا الْفُقَهَارُ خَاصَّةً فَإِنَّهُ لَا کے يبقى لهم رياسة وفتوحات میره جلد سوم ) یعنی جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو علمائے زمانہ سے