چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 53
۵۳ " بنده را خواجه دوش همی یا بم " خواجه را بنده وار می بینیم سکه تو زنند بر رخ در در جهش کم عیار می بینیم چوں زمستان بے چین بگذشت شمس خوش بہار مے بینم" - الاربعين في احوال المهديين از حضرت شاه عمل شهيد مطبوعہ مصری گنج کلکته ۲۵۰ محرم الحرام ها مجری مطابق اور نو بر شهدا) ترجمہ : - بارہ سو سال کے گزرتے ہی مجبیب مجیب کا مجھ کو نظر آتے ہیں۔ہندوستان کے درمیان میں اور اس کے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہو گا اور ظلم ہوگا ایسے انقلاب ظہور میں آئیں گے کہ خواجہ بندہ اور بندہ خواجہ ہو جائے گا یعنی امیر سے فقیر اور فقیر سے امیر بن جائے گا۔هندوستان کی پہلی بادشاہی جاتی رہے گی اور نیا ستہ چلے گاجو کم کیا ہوگا یعنی قدر وقیمت میں کم ہوگا اور سب کچھ تیرھویں صدی میں مسلسلہ وار ظہور میں آئے گا ) جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گزر جائے گا تو پھر