چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 15 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 15

۱۵ باری باری چڑھنا اور اترنا پڑتا تھا۔اسلامی فوج میں زرہ پوش صرف چھ سات تھے، پچند گنتی کی تلواریں تھیں اور باقی سامان جنگ بھی بہت تھوڑا اور ناقص تھا۔یہی وہ تاریخی جنگ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہایت رقت اور اضطرا سے یہ دعا کی :- اللهُمَّ إِلَى انْشِدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللهُم إنْ تَهْلِكُ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ اَهْلِ الْإِسْلَامِ لا تعبد في الأرضِ " (بخاری ومسلم) اے میرے خدا اپنے وعدوں کو پورا فرما۔اسے میرے مالک اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہوگئی تو پھر دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔عرش کو ہلا دینے والی اس دُعا کے بعد ہمارے سید و مولی بسید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سنگریزوں کی مٹھی اپنی روحانی طاقت سے چلائی جس نے یکا یک خوفناک آندھی کی شکل اختیار کرلی اور مخالفین اسلام کی فوج پر اس کا ایسا خارق عادت اثر پڑا کہ وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سرامیکی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ وہ مدہوشوں کی طرح بھاگنے لگے۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جلشانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے وَمَا رَمَيْتَ اذْرَ مَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ وَرَ فِى يَا رَسُولَ الله