چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 14
IN حضرت امام حسین علیہ السلام کے قول کے مطابق ، اور رمضان سنہ ہجری کو اکبری جلد ا ص ۲۶) اور شمسی کیلنڈر کی رو سے ٹھیک ۴ ار مارچ کوظاہر ہوا جس کے نتیجے میں متہ اشیہ ابو جہل اور دوسرے بہت رؤسائے مکہ اور دشمنان اسلام مارے گئے اور قبائل عرب پیر مسلمانوں کا زبر دست رعب بیٹھ گیا اور قبائل اوس و خزرج کے بہت سے لوگ اسلام کی اس خارق عادت تفتح کو دیکھ کر آنحضرت صلی الہ علی الرسوم پر ایمان لے آئے۔کفر و اسلام کی یہ جنگ ظاہری سامانوں سے نہیں آسمانی نشانوں اور فرشتوں کے نزول اور سب سے بڑھ کر رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پر سوز دعاؤں سے جیتی گئی تھی کیونکہ کفار مکہ کا لشکر جرار ایک ہزار جہاں دیدہ اور آزمودہ کا رسپاہیوں پر تمل اور رائج الوقت سامان حر سے خوب آراستہ تھا۔چنانچہ ان کی فوج میں سواری کے سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے اور سب سوار اور اکثر پیادہ زرہ پوش اور نیزوں، تلواروں اور تیر کمانوں سے مسلح تھے مگر مشتاق م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کل تعداد فرق ہے اس تھی اور بے سروسامانی کا یہ عالم تھا کہ تمام اسلامی فوج میں صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے اور انین پر سلمان باری باری سوار ہوتے تھے حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کوئی الگ سواری نہ تھی اور حضور کو بھی دوسروں کے ساتھ