چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 87
که ایل ایران اسلام میں تمام لوگوں سے بڑھ کر خوش نصیب ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نشان صداقت حضرت مسیح موعود کے وجود میں ظاہر ہوا۔میں آپ کے مورث اعلیٰ حضرت مرزا بادی بیگ صاحب مع دیگر افراد خاندان کے سلطنت مغلیہ کے پہلے تاجدار محمد بابر کے عہد حکومت میں سمرقند سے دہلی تشریف لائے اور پھر دہلی سے ضلع گورداسپور میں قیام فرما ہوئے اور اسلام پور قاضی کے نام سے ایک اسلامی ریاست کی بنیا د رکھی جو ی۷ ۱۲۱ (۶۱۸۰۲) تک قائم رہی۔لہذا حضرت بانی احمدیت علیہ السلام قطعی طور پر فارسی النسل تھے جیسا کہ نامور اہلحدیث عالم مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ إشَاعَةُ السُّنَّةِ جلد، صلوا میں واضح طور پرتسلیم کیا۔پاکستان کے ممتاز مورخ جناب پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی ( دارای نشان سپاس ایران ) کی کتاب " تاریخ ایران (جلد اول) سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ سار قبل مسیح میں پنجاب اور سندھ ایرانی قلمرو میں شامل کر لئے گئے تھے اور عرصہ تک ایرانی صوبے بنے رہے۔۱۲۵۰ دوسرانشان ( ) متعدد احادیث سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہدی موعود کا طور