چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 34
۳۴ محمدی و غیره اس قدر شکست خوردہ ہیں کہ قیامت تک سر نہ اُٹھا سکیں گے " خط شکاگو م ۲۰ مطبوعہ نیشنل پریس امرتسر ۴۱۸۹۳ از ریورنڈ مولوی عماد الدین لاہز ) اور یورپ کے ایک سکالر ڈاکٹر کو تھر آپ اسٹا ڈر ڈ-Dr۔LUTHER) (UP - ISTADARD up نے آمد مہدی کی پیش گوئی کا مذاق اُڑاتے ہوئے لکھا :- " مهدویت فطرتا کوئی عملی یا مستقل نتیجہ نہ پیدا کرسکی، بی صرف گھاس کی آگ تھی جو جا بجا بہت زور سے شعلہ زن ہوئی اور پھر بجھ گئی اور عوام اس طلسم کے باطل ہونے سے پہلے سے بھی زیادہ پست ہمت اور مُردہ دل ہو گئے " جدید دنیائے اسلام صدا، مصنفہ ڈاکٹر کو تھر آپ اسٹا ڈرڈ، اے ، ایم پی۔ایچ۔ڈی مترجمہ محمد جمیل الدین بدایونی مطبوعہ عثمانی پریس بدایوں۔نومبر ۶۱۹۲۳ ) درد مند مسلم مفکرین اور زعماء اور صحافی اس اندوہناک صورت حال کو دیکھ کر تڑپ اُٹھے بینگلور کے ایک مشہور اسلامی جریدہ منشور محمدی نے لکھا :۔" غرض سارے مذہب اور تمام دین والے یہی چاہتے ہیں کہ کسی طرح دین اسلام کا چراغ گل ہوا اور صر صر حوادث کا