چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 29
۲۹ امت کو عیسی ابن مریم کے پر اسرار خطاب سے سرفراز کیا گیا جو در اصل درگاہ محمدی کی طرف سے پوری اُمت مسلمہ کے لئے یہ شاہی اعلان تھا کہ مهدی موعود کو حضرت مسیح ابن مریمہ کی ذات اُن کی زندگی ، اُن کے ماحول اور اُن کے اصلاحی تبلیغی کارناموں کے ساتھ اس درجہ بے شمار مشابہتیں اور مماثلتیں حاصل ہوں گی کہ خلقت پکار اٹھے گی کہ گویا پہلا مسیح ابن مریم ہی دوبارہ آگیا ہے۔اور س سے بڑھ کر یہ کہ اسی طرح آخرت کے بعد چودھویں صدی میں نمودار ہو گا جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام حضرت موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔میچینی ذوقی نظریہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی صداقت ہے جس کا اقرار مغربی مفکرین بھی کئے بغیر نہیں رہ سکے اور انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا -ENCYCLO) PAEDIA OF BRITANNICA کا جدید ایڈمیشن ۶ اس پر گواہ ہے ( ملاحظہ ہو زیر لفظ مورس MOSES جلد ها منشا پاکستان کے فاضل و محقق جناب محمد جمیل احمد ایم اے نے بھی اپنی کتاب انبیائے قرآن جلد ۲ صثہ میں اپنی تحقیق پیش کی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا سند وفات ۱۴۰۰ قبل مسیح ہے۔بالفاظ دیگر حضرت مسیح ابن مریمہ کا ظور ٹھیک چودھویں صدی میں ہوا اور قرآن شریف کی آیت کما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم ( النور : ۵۶) بھی یہ تقاضا کرتی ہے W