چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 30
٣٠ وس گریم محمدی بود حویں صدی میں ہیں ظہور پذیر ہوا تا موسیٰ اور مشیل موسی کے اول و آخر میں اکمل ترین مشابہت ہو اور چونکہ چاند چودھویں راست میں اپنے نور میں کمال تک پہنچا ہوا ہوتا ہے اس لئے آیت لَقَدْ نَصَرَكُهُ الله ببدر میں اشارہ تھا کہ اُس کے وقت میں اسلامی معارف اور برکات کمال تک پہنچ جائیں گی جیسا کہ آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّم (سورۃ توبہ - صف۔فتح) میں اسی کمالِ نام کا ذکر ہے اور یہی وہ معرکہ آراء آیت ہے جس کی تسبیت جلیل القدر صحابہ، تابعین، ائمه اطهار، مجددین مفترین، مورخین او تعلمین عرضنکہ بزرگان امت کے ہر طبقہ کا اجماع ہے کہ اس میں اسلام کے جس عالمی غلبہ کی پیشگوئی ہے اس کا تعلق مسیح موعود و مہدی مسعود کی شخصیت کے ساتھ ہے اور اسلامی محبت کی وہ بلند آواز جس کے نیچے سب آوازیں دب جائیں وہ ازل سے مسیح موعود کے لئے خاص کی گئی ہے۔اس سلسلہ میں قرون اولیٰ کے بزرگوں میں جہاں یہ نظریہ قائم تھا کہ نزول مسیح ابن مریم سے مراد مشیل شیخ کا ظہور ہے وہاں بعض علمائے ربانی یہ خیال بھی مدتوں سے پیش کرتے چلے آرہے تھے کہ اسلام کو مسیح موعود کے زمانہ میں دلائل اور نشانات سے غلبہ حصیب ہوگا۔چنانچہ حضرت امام ابوالقاسم محمود بن عمر ز مختری خوارزمی (المتوفی ۵۲۸ھ) فرماتے ہیں :- وَقِيلَ هُوَ إظْهَارُهُ بِالْحُجَجِ وَالْآيَاتِ"