چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 139
كَمَا صَرح به أهْلُ الكَشْفِ لى الكَشْفِ وَيُلْهمُ المَحكُم بِشَرِييَة مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُكُمُ الْمَطَابَقَةِ بِحَيْثُ لَو كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوجودا لا قرة عَلَى جَمِيعِ اَحْكَامِهِ كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ فِي حَدِيثِ یعنی امام مهدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد اون سے پہلے مذاہب کے اقوال پر عمل کی پابندی باطل ہو جائے گی چنانچہ اہل کشف نے اس کی تصریح کی ہے اور امام مہدی علیہ اسلام کو پورسے طور پر شریعت محمدی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے مطابق حکم کرنے کا الہام کیا جائے گا۔یہاں تک کہ اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوتے تو اُن کے تمام جاری کردہ احکام کو سلیم فرماتے اور اپنی کو قائم رکھتے چنانچہ اس حدیث میں جس کے اندر امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ ہے، اس طرف اشارہ بھی ہے کیونکہ آپ اس میں فرماتے ہیں کہ يَقْفُو أَثْرِى لَا يُخْطِئُ یعنی میرے قدم بقدم چلیں گے اور ذرا بھی خطا نہ کریں گے۔مواجب رحمانی ترجمہ اردو میزان شعرانی جلد اول مثلا مولفه امام سید عبد الوہاب شعرانی مترجم مولانامحمد حیات سنبھلی۔مطبع گوارہ بہت لاہور) 4۔