چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 125
۱۲۵ (۱) چاند کا گرہن اس کی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں ہونا۔(۲) سورج کا گرہن اس کے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہونا۔(۳) رمضان کا مہینہ ہونا۔(۴) نرمی کا موجود ہوتا۔(۵) مدعی کا اس کو اپنے ثبوت میں پیش کرنا۔(4) دوبارہ امریکہ میں انہی تاریخوں میں اس کا واقع ہونا۔(۷) حضرت ابن عربی کی پیشگوئی کے مطابق اس کا ظہور۔ران خصوصی پہلوؤں پر میں اعتبار سے بھی غور کیا جائے تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ مذاہب عالم کی پوری تاریخ میں اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود و مهدی موعود علیہ السلام نے فرمایا۔یہ دار قطنی کی حدیث مسلمانوں کے لئے نہایت مفید ہے۔اس نے ایک تو قطعی طور پر مہدی معہود کے لئے چودھویں صدی کا زمانہ مقرر کر دیا ہے اور دوسرے اس مہدی کی تائید میں اس۔نے ایسا آسمانی نشان پیش کیا ہے جس کے تیرہ سو برس سے گل اہل اسلام منتظر تھے۔بیچ کہو کہ آپ لوگوں کی طبیعتیں چاہتی تھیں کہ میرے مہدویت کے دعوئی کے وقت میں آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو جائے ؟ ان تیرہ سو برسوں میں