حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 69
69 رسالہ کے مقابلہ پر رسالہ لکھ کر اپنی عربی دانی اور قرآن دانی کا ثبوت دیتے۔نیز حضور نے کرامات الصادقین کے متعلق یہ بھی چیلنج فرمایا کہ۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ شیخ بطالوی صاحب نے جس قدر اس عاجز کی بعض عربی عبارات سے غلطیاں نکالی ہیں اگر ان سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ اب اس شیخ کی تیرگی اور بے حیائی اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ صحیح اس کی نظر میں غلط اور فصیح اس کی نظر میں غیر فصیح دکھائی دیتا ہے۔اور معلوم نہیں کہ یہ نادان شیخ کہاں تک اپنی پردہ دری کرانا چاہتا ہے اور کیا کیا ذلتیں اس کے نصیب میں ہیں۔بعض اہل علم ادیب اس کی باتیں سن کر اس کی اس قسم کی نکتہ چینیوں پر اطلاع پا کر روتے ہیں کہ یہ شخص کیوں اس قدر جہل مرکب کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔میں نے پہلے بھی لکھ دیا ہے اور اب پھر ناظرین کی اطلاع کیلئے لکھتا ہوں کہ میاں بطالوی نے میرے ان قصائد اربعہ اور تفسیر سورہ فاتحہ کا مقابلہ کر دکھلایا اور منصفوں کی رائے میں وہ قصائد اور وہ تفسیر ان کی صرفی نحوی غلطیوں سے مبر انکلی تو میں ہر یک غلطی کی نسبت جو ان قصائد اور تفسیر میں پائی جائے یا میری کسی پہلی عربی تالیف میں پائی گئی ہو پانچ روپیہ فی غلطی شیخ بطالوی کی نذر کروں گا۔“ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد سے صفحہ ۴۳ ۴۴۷ ) نور الحق مرتدین از اسلام پادریوں میں سے ایک پادری عماد الدین نے ایک کتاب بعنوان ” توزین الاقوال لکھی جو نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز تھی۔اس کتاب میں قرآن کریم ، آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اعتراضات اور الزامات کا نشانہ بنایا گیا تھا۔جب یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی تو آپ نے اس کے جواب میں یہ رسالہ نور الحق حصہ اول لکھا اور پادری مذکور کے جملہ اعتراضات کے مدلل اور مسکت جوابات دیئے۔