حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 68 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 68

68 پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد اور تفسیر کے بالمقابل کوئی غلطی نکالیں توفی غلطی پانچ رو پید انعام بھی دوں گا۔تفسیر لکھنے کے وقت یہ یادر ہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل منظور نہیں ہوگی بلکہ وہی تفسیر لائق منظور ہوگی جس میں حقائق و معارف جدیدہ ہوں بشرطیکہ کتاب اللہ اور فرمودہ رسول اللہ اللہ کے مخالف نہ ہوں“ کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ ۴۹) اس بارہ میں حضور نے کرامات الصادقین میں ہی یہ بھی فرمایا۔” ہم فراست ایمانیہ کے طور پر یہ پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ شیخ صاحب اس طریق مقابلہ کو بھی ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اپنی پرانی عادت کے موافق ٹالنے کی کوشش کریں گے۔مگر اب شیخ صاحب کے لئے طریق آسان نکل آیا ہے کیونکہ اس رسالہ میں صرف شیخ صاحب ہی مخاطب نہیں بلکہ وہ تمام مکفر مولوی بھی مخاطب ہیں جو اس عاجز متبع اللہ اور رسول کو دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں۔سولا زم ہے کہ شیخ صاحب نیازمندی کے ساتھ ان کی خدمت میں جائیں اور ان کے آگے ہاتھ جوڑمیں اور رودمیں اور ان کے قدموں پر گریں لیکن مشکل یہ ہے کہ اس عاجز کو شیخ جی اور ہر ایک مکفر بداندیش کی نسبت الہام ہو چکا ہے کہ اتنی مھین من اَرَادَ اکائنگ اس لئے یہ کوششیں شیخ جی کی ساری عبث ہوں گی۔اور اگر کوئی مولوی شوخی اور چالا کی کی راہ سے شیخ صاحب کی حمایت کیلئے اٹھے گا تو منہ کے بل گرا دیا جائے گا۔خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کے تکبر کو توڑ دے گا اور دکھلائے گا کہ وہ کیونکر غریبوں کی حمایت کرتا ہے ( کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد کے صفحہ ۶۷ ،۶۶) اور ایسا ہی ہوا۔یہ شیخ محمد حسین بٹالوی کو ہمت ہوئی اور نہ ہی دوسرے مکفرین کو کہ وہ اس