حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 67 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 67

67 زیادہ رسالے اور کتابیں لکھیں اور مخالف علماء کو ہزار ہا روپیہ کے انعامات مقرر کر کے مقابلہ کے لئے بلایا۔لیکن کسی کو بالمقابل کتاب یا رسالہ لکھنے کی جرات نہ ہوئی۔چنانچہ آپ نے اپنی عربی کتب کے بالمقابل کتب لکھنے کے جو چیلنج دیئے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔کرامات الصادقين حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ رسالہ ۱۸۹۳ء میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور اس کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دانی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کیلئے اتمام حجت کے طور پر تصنیف فرمایا۔یہ رسالہ چار قصائد اور تفسیر سورۃ فاتحہ پر مشتمل ہے۔اور یہ قصائد حضرت اقدس نے صرف ایک ہفتہ کے اندر لکھے اور وہ بھی اس وقت جب آپ آتھم کے ساتھ مباحثہ سے فارغ ہو کر امرتسر میں مقیم تھے۔مگر آپ نے بٹالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب علماء کو محض اتمام حجت کی غرض سے پورے ایک مہینہ میں اس رسالہ کے مقابل پر فصیح و بلیغ عربی رسالہ لکھنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اور اگر اس رسالہ کے مقابل پر میاں بطالوی صاحب یا کسی اور ان کے ہم مشرب نے سیدھی نیت سے اپنی طرف سے قصائد اور تفسیر سورۂ فاتحہ تالیف کر کے بصورت رسالہ شائع کر دی تو میں سچے دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ثالثوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ ان کے قصائد اور ان کی تفسیر جو سورہ فاتحہ کے دقائق اور حقائق کے متعلق ہوگی میرے قصائد اور میری تفسیر سے جو اس سورہ مبارکہ کے اسرار لطیفہ کے بارہ میں ہے ہر پہلو سے بڑھ کر ہے تو میں ہزار روپیہ نقدان میں سے ایسے شخص کو دوں گا جو روز اشاعت سے ایک ماہ کے اندر ایسے قصائد اور ایسی تفسیر بصورت رساله شائع کرے اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اگر ان کے قصائد اور ان کی تفسیر نحوی اور صرفی و علم بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو