حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 58 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 58

58 چھوٹ گئے وہاں مسلمانان ہند کے حو صلے بھی بلند ہو گئے۔نیز اس کتاب میں آپ نے یہودیوں، عیسائیوں، مجوسیوں ، برہموسما جیوں، بت پرستوں، دہریوں ، اباحتیوں اور لامذہب وغیرہ سب کے وساوس کے مسکت جواب دیئے اور مخالفین کے اصولوں پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق کے ساتھ عقلی بحث کی۔براہین احمدیہ کا رڈ لکھنے کا چیلنج اس کتاب کا پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔اس حصہ میں آپ نے جملہ مذاہب عالم کے لیڈروں کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید کی حقیقت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت کے ثبوت میں جو دلائل ہم نے اپنی کتاب یعنی قرآن مجید سے نکال کر پیش کئے ہیں اگر کوئی غیر مسلم ان میں سے نصف یا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا پانچواں حصہ ہی اپنے مذہب کے عقائد کی صداقت کے ثبوت میں اپنی الہامی کتاب سے نکال کر دکھاوے یا اگر دلائل پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے دلائل ہی کو نمبر وار توڑ کر دکھا دے تو میں بلا تامل اپنی دس ہزار کی جائداد اس کے حوالہ کر دوں گا۔اور وہ چیلنج حسب ذیل ہے۔میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے منکر ہیں اتماما للحجتہ شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیقت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیا ہ اسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کیں ہیں اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا شمس ان سے نکال کر