حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 43
43 جس میں توفی کے لفظ کا خدا تعالیٰ فاعل ہو اور مفعول بہ کوئی علم جیسے زید بکر اور خالد وغیرہ اور اس فقرہ کے معنے بہداہت کوئی اور ہوں وفات دینے کے معنی نہ ہوں تو اس صورت میں میں ایسے شخص کو مبلغ دو روپیہ نقد دوں گا۔ایسے شخص کو صرف یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ حدیث جس کو پیش کرے وہ حدیث صحیح نبوی ہے یا گزشتہ عرب کے شاعروں میں سے کسی کا قول ہے جو علم محاورات عرب میں مسلم الکمال ہے اور یہ ثبوت دینا بھی ضروری ہوگا کہ قطعی طور پر اس حدیث یا اس شعر سے ہمارے دعوی کے مخالف معنے نکلتے ہیں اور ان معنوں سے جو ہم لیتے ہیں وہ مضمون فاسد ہوتا ہے۔یعنی وہ حدیث یا وہ شعر ان معنوں پر قطعیۃ الدلالت ہے۔کیونکہ اگر حدیث یا اس شعر میں ہمارے معنوں کا بھی احتمال ہے تو ایسی حدیث یا ایسا شعر ہرگز پیش کرنے کے لائق نہ ہوگا کیونکہ کسی فقرہ کو بطور نظیر پیش کرنے کیلئے اس مخالف مضمون کا قطعیۃ الدلالت ہونا شرط ہے۔وجہ یہ ہے کہ جس حالت میں صد ہا نظائر قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہو چکا ہے کہ توفی کا لفظ اس صورت میں کہ خدا تعالی اس کا فاعل اور کوئی علم یعنی کوئی نام لے کر انسان اس کا مفعول بہ ہو بجز وفات دینے اس مفعول بہ کے کسی دوسرے معنوں پر آ ہی نہیں سکتا تو پھر ان نظائر متواترہ کثیرہ کے برخلاف جو شخص دعوی کرتا ہے یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ وہ ایسی صریح نظیر جو قطعیۃ الدلالت ہو برخلاف ہمارے پیش کرے۔فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۸۴/۳۸۳) مخالفین کا رد عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ چیلنج نہ تو توڑا جا سکتا ہے اور نہ کسی کو آج تک توڑنے کی توفیق مل سکی البتہ اس چیلنج کے بعد حیات مسیح کے اثبات میں لکھی گئی تمام معروف کتب میں لفظ تو فی