حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 403 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 403

403 دے کر مجھے کا ذب اور جہنمی خیال کرتا ہے اس کے لئے فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ وہ بھی اپنی نسبت چند ایسے اپنے الہامات کسی اخبار وغیرہ کے ذریعہ سے شائع کرے جس میں ایسی ہی صاف اور صریح پیشگوئیاں ہوں تب خود لوگ ظہور کے وقت اندازہ کر لیں گے کہ کون شخص مقبول الہی ہے اور کون مردود الہی۔ورنہ صرف دعوؤں سے کچھ ثابت نہیں ہوسکتا۔اور خدائے تعالیٰ کی عنایات خاصہ میں سے ایک یہ بھی مجھ پر ہے کہ اس نے علم حقائق و معارف قرآنی مجھ کو عطا کیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو۔کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا یمسہ الا امطھرون۔سو مخالف پر بھی لازم ہے کہ جس قدر میں اب تک معارف قرآن کریم اپنی متفرق کتابوں میں بیان کر چکا ہوں اس کے مقابل پر کچھ اپنے معارف کا نمونہ دکھلا دیں اور کوئی رسالہ چھاپ کر مشتہر کریں تا لوگ دیکھ لیں کہ جو دقائق علم ومعرفت اہل اللہ کو ملتے ہیں وہ کہاں تک ان کو حاصل ہیں مگر بشرطیکہ کتابوں کی نقل نہ ہو۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۳) میاں نذیر حسین ، مولوی بٹالوی اور دیگر تمام صوفیاں کو نشان نمائی ، پیشگوئیوں اور مباہلہ کے مقابلہ کی دعوت ” بہر حال چونکہ میری طرف سے آسمانی فیصلہ میں ایمانی مقابلہ کیلئے درخواست ہے تو پھر مقابلہ سے دستکش ہو کر خاص مجھ سے نشانوں کیلئے استدعا کرنا اس صورت میں میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کو حق پہنچتا ہے کہ حسب تحریر میری اول اس بات کا اقرار شائع کریں کہ ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں اور دراصل ایمانی انوار و علامات ہم میں موجود نہیں کیونکہ یکطرفہ نشانوں کے دکھلانے کیلئے بغرض کبرشکنی ان کی