حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 404
404 کے میں نے یہی شرط آسمانی فیصلہ میں قرار دی ہے اور نیز ظاہر بھی ہے کہ ان لوگوں کو بجائے خود مومن کامل اور شیخ الکل اور ملہم ہونے کا دعوی ہے اور مجھ کو ایمان سے خالی اور بے نصیب سمجھتے ہیں تو پھر بجز مقابلہ کے اور کونسی صورت فیصلہ کی ہے۔ہاں اگر اپنے ایمانی کمالات کے دعوئی سے دست بردار ہوجائیں تو پھر یکطرفہ ثبوت ہمارے ذمہ ہے اس بات کا جواب میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کے ذمہ ہے کہ وہ با وجود دعوی مومن کامل بلکہ شیخ الکل ہونے کے کیوں ایسے شخص کے مقابلہ سے بھاگتے ہیں جو ان کی نظر میں کافر بلکہ سب کافروں سے بدتر ہے اور کس بنا پر یکطرفہ نشان مانگتے ہیں۔اگر فیصلہ آسمانی کے جواب میں یہ درخواست ہے تو حسب منشاء اس رسالہ کے درخواست ہونی چاہئے۔یعنی اگر اپنی ایمانداری کا کچھ دعویٰ ہے تو مقابلہ کرنا چاہئے جیسا کہ آسمانی فیصلہ میں بھی شرط درج ہے ورنہ صاف اس بات کا اقرار کرے کہ ہم حقیقی ایمان سے خالی ہیں یا یک طرفہ نشان کی درخواست کریں۔بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں میاں گلاب شاہ اور نعمت اللہ ولی کی اس عاجز کے حق میں حسب منشاء قرآن کریم کے نشان صریح ہیں جس میں کسی دست بازی اور مکر اور فریب کی گنجائش نہیں۔اب اگر کوئی صوفی پردہ نشین جو پردہ سے نکلنا نہیں چاہتا بقول بٹالوی صاحب اور میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بالمقابل نشان دکھلانے کو طیار ہے تو وہ بھی ایسی ہی دو پیشگوئیاں انہیں ثبوتوں کے ساتھ اپنے حق میں کسی گذشتہ ولی کی طرف سے پیش کرے ہم خدا تعالیٰ کی قسم یاد کر کے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ بھی ایسے ہی نشان اور اسی درجہ ثبوت پر اور ایسی عظمت کے ساتھ باعتبار اپنے بعد زمانہ کے پائے گئے ہیں تو ہم سزائے موت اٹھانے کیلئے بھی تیار ہیں۔اور اس عاجز کی اپنی گذشتہ پیشگوئیاں جو