حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 11 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 11

11 اجازت دی جاوے لیکن یہ پہلے سے جلسہ میں تصفیہ پا جانا چاہئے کہ آپ اس قدر اوراق لکھنے کیلئے کافی سمجھتے ہیں اور آنمکرم اس بات کو خوب یا درکھیں کہ پرچہ صرف دو ہوں گے۔اول آپ کی طرف سے میرے ان دونوں بیانات کا رد ہو گا جو میں نے لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت ابن مریم در حقیقت وفات پاگئے ہیں۔پھر اس رد کے رد الرد کیلئے میری طرف سے تحریر ہوگی۔غرض پہلے آپ کا یہ حق ہوگا کہ جو کچھ دعوئی کے ابطال کے لئے آپ کے پاس ذخیرہ نصوص قرآنیہ و حدیث موجود ہے وہ آپ پیش کریں۔پھر جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یہ عاجز اس کا جواب دے گا اور بغیر اس طریق کے جو مینی با انصاف ہے اور نیز امن رہنے کیلئے احسن انتظام ہے اور کوئی طریق اس عاجز کو منظور نہیں۔اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ اخیر تحریر تصور فرماویں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہرگز ہرگز کوئی تحریر یا خط میری طرف نہ لکھیں اور اگر پوری پوری و کامل طور پر بلا کم و بیش میری رائے ہی منظور ہو تو صرف اسی حالت میں جواب تحریر فرماویں ورنہ نہیں۔فقط۔آج ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ کی خدمت میں خط بھیجا گیا ہے اور ۲۰ را پریل ۱۸۹۱ ء تک آپ کے جواب کی انتظار رہے گی۔اور ۲۰ را پریل تک آپ کے جواب کی انتظار رہے گی۔اگر ۲۰ / اپریل ۱۸۹۱ ء تک آپ کا خط نہ پہنچا تو یہ خط آپ کے رسالہ کے جواب میں کسی اخبار وغیرہ میں شائع کر دیا جائے گا فقط۔( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۰۶،۲۰۵) مولوی محمد حسین نے اپنے جواب میں دونوں شرطیں منظور کرتے ہوئے اپنی طرف سے دو شرطیں اور بڑھا دیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ۔میں قبل از مباحثہ چند اصول کی تمہید کروں اور آپ سے ان کو تسلیم کراؤں“