حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 12
12 اور یہ بھی لکھا کہ آپ اپنے جملہ دعاوی کے جملہ دلائل درج کر کے مجھے لکھیں۔اس خط کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدلل جواب لکھا لیکن یہ مجوزہ مباحثہ بھی نہ ہوسکا۔مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کو مباحثہ کی دعوت پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۳ مئی کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں علماء کو مباحثہ کیلئے دعوت دی اور اس میں مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کو بھی مخاطب کیا اور لکھا کہ اگر آپ چاہیں تو بذات خود بحث کریں اور چاہیں تو اپنی طرف سے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کو بحث کیلئے وکیل مقرر کر دیں۔اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان مباحثہ کیلئے خط وکتابت ہوئی۔موضوع مباحثہ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ۔امر مبحوث عنہ وفات وحیات مسیح ہو گا کیونکہ اس عاجز کا دعوی اسی بناء پر ہے۔جب بنا ٹوٹ جاوے گی تو یہ دعویٰ خود بخود ٹوٹ جاوے گا۔“ مولوی محمد حسن کا جواب مولوی محمد حسن صاحب نے حسب مشورہ مولوی محمد حسین بٹالوی یہ جواب دیا کہ۔" آپ کے اشتہار میں وفات مسیح اور اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے۔لہذا میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے آپ کے مسیح موعود ہونے میں بحث ہو۔پھر حضرت ابن مریم کے فوت ہونے میں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرمایا کہ:۔اصل امر اس بحث میں جناب مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات ہے۔اور میرے الہام میں بھی یہی اصل دیا گیا ہے کہ۔