حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 281 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 281

281 آپ یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ شخص مشاہدہ کنندہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد اسلام کو قبول کرے۔سو اس قدر تو ہم مانتے ہیں کہ یہ بیچ کے کھلنے کے بعد جھوٹھ پر قائم رہنا دھرم نہیں ہے اور یہ ایسا کام کسی بھلے منش اور سعید الفطرت سے ہوسکتا ہے لیکن مرزا صاحب آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہدایت پا جانا خود انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔جت توفیق ایزدی اس کے شامل حال نہ ہو کسی دل کو ہدایت کے لئے کھول دینا ایک ایسا امر ہے جو صرف پر میشر کے ہاتھ میں ہے سو ہم لوگ جو صد ہا زنجیروں قوم برادری ننگ و ناموس وغیرہ میں گرفتار ہیں کیونکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود اپنی قوت سے ان زنجیروں کو توڑ کر اور اپنے سخت دل کو آپ ہی نرم کر کے آپ ہی دروازہ ہدایت اپنے پر کھول دیں گے اور جو پر میشر سرب شکتی مان کا خاص کام ہے وہ آپ ہی کر دکھا ئیں گے بلکہ یہ بات سعادت از لی پر موقوف ہے جس کے حصہ میں وہ سعادت مقدر ہے اس کے لئے شرائط کی کیا حاجت ہے اس کو تو خود توفیق از لی کشاں کشاں چشمہ ہدایت تک لے آئے گی ایسا کہ آپ بھی اس کو روک نہیں سکتے اور آ ہم سے ایسی شرطیں موقوف رکھیں اگر ہم لوگ کوئی آپ کا نشان دیکھ لیں گے تو اگر ہدایت پانے کے لئے توفیق ایزدی ہمارے شامل حال ہوئی تو ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں اور پر میشر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اس قدر تو ہم ضرور کریں گے کہ آپ کے ان نشانوں کو جو ہم بچشم خود مشاہدہ کر لیں گے چند اخباروں کے ذریعہ سے بطور گواہ رویت شائع کرا دیں گے اور آپ کے منکرین کو ملزم ولا جواب کرتے رہیں گے اور آپ کے صداقت کی حقیقت کو حتی الوسع اپنی قوم میں پھیلائیں گے اور بلاشبہ ہم ایک سال تک عند الضرورت آپ کے مکان پر حاضر ہو کر ہر ایک قسم کی پیشگوئی وغیرہ پر دستخط بقید تاریخ و روز کر دیا کریں گے اور کوئی بدعہدی اور کسی قسم کی نامنصفانہ حرکت