حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 282
282 ہم سے ظہور میں نہ آئے گی۔ہم سراسر سچائی اور راستی سے اپنے پر میشر کو حاضر و ناظر جان کر یہ اقرار نامہ لکھتے ہیں اور اسی سے اپنی نیک نیتی کا قیام چاہتے ہیں ور سال جو نشانوں کے دکھانے کیلئے مقرر کیا گیے ہے وہ ابتدائے ستمبر ۱۸۸۵ء سے شمار کیا جاوے گا۔جس کا اختتام ستمبر ۱۸۸۵ء کے اخیر تک ہو جائے گا۔العبد۔پچھن رام بقلم خود۔جو اس خط میں ہم نے لکھا ہے اس کے موافق عمل کریں گے۔پنڈت پہار امل بقلم خود۔بشند اس ولد دعدا ساہوکار بقلم خود منشی تا را چند کھتری بقلم خود۔پنڈت نہال چند۔نست رام - فتح چند۔پنڈت ہر کرن۔پنڈت پیج ناتھ چودھری۔بازار قادیان بقلم خود۔بشند اس ولد ہیرانند برہمن از حیات احمد جلد سوم صفحه ۱۳۲ تا ۱۳۴) نامه مرزا غلام احمد صاحب بجواب خط ساہوکاران قادیان عنایت فرمای من پنڈت نہال چند صاحب و پنڈت پھارامل صاحب و چھی رام صاحب ولاله بشند اس و منشی تارا چند صاحب ودیگر صاحبان ارسال کنندگان درخواست مشاہدہ خوارق بعد ما وجب۔آپ صاحبوں کا عنایت نامہ جس میں آپ نے آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے درخواست کی ہے مجھے کو ملا۔چونکہ یہ خط سراسر انصاف وحق جوئی پر مبنی ہے اور ایک جماعت طالب حق نے جو عشرہ کاملہ ہے اس کو لکھا ہے اس لئے یہ تمامتر شکر گزاری اس کے مضمون کو قبول منظور کرتا ہوں۔اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر