حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 249 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 249

249 دعویٰ کیا کہ میرے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ آپ کی طرح ہمکلام ہوتا ہے۔لہذا آپ کے مقابلہ میں میں بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر پیشگوئی کر سکتا ہوں۔نیز ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کا دن اس مقابلہ کیلئے مقرر کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ۸ امئی ۱۸۸۸ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اس مقابلہ کی خواہش کو قبول کرتے ہوئے درج ذیل چیلنج دیا :۔سو آج ہماری طرف سے بھی اس قسم کا مناظرہ قبول ہو کر عام اطلاع کے لئے یہ اعلان جاری کیا جاتا ہے کہ ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کو پیر کے روز میاں فتح محمد عیسائی روح القدس کا فیض دکھلانے اور الہامی پیشگوئیاں بالمقابل بتلانے کے لئے ہمارے مکان پر جو نبی بخش ذیلدار کا طویلہ ہے آئیں گے جیسا کہ انہوں نے قریباً پچاس آدمی کے روبرو یہ وعدہ کر لیا ہے۔پہلے ہم الہامی پیشگوئیاں بقید تاریخ پیش کریں گے اور پھر اس کے مقابل پر ان کے ذمہ ہو گا کہ ایسی ہی الہامی پیشگوئیاں وہ بھی پیش کریں۔پس جو صاحب اس جلسہ کو دیکھنا چاہتے ہوں انہیں اختیار ہے کہ دس بجے تک بروز پیر ہمارے مکان پر بٹالہ میں حاضر ہو جاویں۔پھر اگر میاں فتح مسیح بر طبق اپنے وعدہ کے پیر کے دن آ موجود ہوئے ہوں اور روح القدس کی الہامی طاقت جو اٹھارہ سو برس سے عیسائی جماعت سے بوجہ گمراہی ان کی کے گم ہو چکی ہے تازہ طور پر دکھلائیں اور ان پیشگوئیوں کی سچائی اپنے وقت میں ظہور میں آ جائے تو بلاشبہ عیسائیوں کو اپنے مذہب کی صداقت پر ایک حجت ہوگی کیونکہ ایسے عظیم الشان میدان مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے ان کی حمایت کی اور مسلمانوں کی نہ کی۔اور ان کو فتح دی اور مسلمانوں کو نہ دی۔( مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۴۶) اس اشتہار کے بعد میاں فتح مسیح حسب پروگرام پیشگوئیوں کے مقابلہ کیلئے مقررہ دن ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کو اپنے چند عیسائی ساتھیوں کے ہمراہ حاضر ہوا۔اس موقعہ پر اور بھی کافی لوگ جمع