حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 172 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 172

172 علی ہذا القیاس۔ماسٹر صاحب بھی بمقابل ہمارے ایسا ہی کریں یعنی وہ بھی روحوں کی غیر مخلوقیت بدلائل عقلیہ ثابت کرنے اور علم روح کے بیان کرنے میں وید ہی کی شریعتوں کے پابندر ہیں اور وہی دلائل وغیرہ تحریر میں لاویں جو وید نے پیش کئے ہیں اور ہم دونوں فریق صرف حوالہ آیت یا شرتی پر کفایت نہ کریں بلکہ اس آیت یا شرقی کو بتمام مع ترجمہ و پستہ ونشان وغیرہ تحریر بھی کر دیں۔اس طور کے مباحثہ و موزانہ سے غالب اور مغلوب میں صاف فرق کھل جائے گا اور جوان دونوں میں سے حقیقت میں خدا کا کلام ہے وہ کامل طور پر ان باتوں میں عہدہ برآ ہوگا اور اپنے حریف کو شکست فاش دے گا اور اس کی ذلت اور رسوائی کو ظاہر کرے گا لیکن ہم بطور پیشگوئی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایسا مقابلہ وید سے ہونا ہرگز ممکن ہی نہیں کیونکہ وید اپنے بیانات میں سراسر غلطی پر ہے اور وہ بوجہ انسانی خیالات ہونے کے یہ طاقت اور قوت بھی نہیں رکھتا پر ہے کہ خدا وند علیم و حکیم کی پاک و کامل کلام کا مقابلہ کر سکے۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ہم نے علی التساوی یہ شرط پیش کی ہے یعنی اپنے نفس کے لئے اس طرز کے مقابلہ میں کوئی ایسا فائدہ مخصوص نہیں رکھا جس سے فریق ثانی منتفع نہ ہوسکتا ہو۔پس اگر اب بھی ماسٹر صاحب کنارہ کر گئے تو کیا یہ اس بات پر دلیل کافی نہیں ہوگی کہ انکا ویدان کمالات اور خوبیوں اور پاک سچائیوں سے بکی عاری اور خالی ہے۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۱۷۱۷۱۷۰) اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرلیدھر کو قرآن کریم کے بالمقابل دید سے علم روح بیان کرنے پر سور و پیہ انعام دینے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔بالآخر ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ اگر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال ہے کہ قرآن شریف میں علم روح بیان نہیں کیا گیا اور وید میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت