حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 46
46 کیلئے قرینہ خدا کا فاعل ہونا اور انسان کا مفعول یہ ہونا ہوگا۔اور کسی غیر ذی روح امر جیسے حق اور حال وغیرہ کیلئے استعمال کی صورت میں اس کے پورا پورا لینے کے معنوں کیلئے قرینہ ہوگی۔مولوی عنایت اللہ گجراتی کا اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توفی کے چیلنج کے تقریباً چوالیس سال بعد مسجد المحدیث گجرات کے امام الصلوۃ مولوی عنایت اللہ گجراتی نے ۱۹۳۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کے نام ایک خط میں توفی کے چینج کے مقابلہ میں مطلوبہ مثال پیش کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا اور بعد میں اس آمادگی کا اظہار بطور اعلان اخبار ”سنیاسی“ گجرات میں شائع کر کے ایک ہزار روپیہ کسی امین کے پاس جمع کرانے کا مطالبہ کیا۔اس کے جواب میں مرکز سے مشورہ کے بعد مرزا حاکم بیگ صاحب احمدی موجد تریاق چشم، مقیم گجرات نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں پانچ معززین گجرات کے نام بطور امین پیش کئے اور لکھا کہ مولوی صاحب ان میں سے جس پر اعتما در کھتے ہوں میں ایک ہزار روپیہ کی رقم ان کے پاس جمع کرادوں گا۔چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے مولوی صاحب اخبار سنیاسی گجرات ۱۵؍ مارچ ۱۹۳۴ء کے ذریعے اس مقابلہ سے فرار اختیار کر گئے کہ میرے مخاطب تو صرف مرزا محموداحمد صاحب امام جماعت احمد یہ ہیں جو مرزا صاحب کی جائداد کے مالک ہیں۔در حقیقت مولوی صاحب ایسے اعلانات سے محض سستی شہرت کے خواہاں تھے ورنہ وہ اپنے دعوی میں سنجیدہ ہوتے تو فوراً مطلوبہ مثال پیش کر کے انعام کا مطالبہ کرتے۔اور جب کہ مرزا حاکم بیگ صاحب نمائندہ جماعت احمد یہ انعام کی رقم ان کے مسلمہ امین کے پاس جمع کرانے کیلئے تیار تھے تو ان کیلئے گریز کی کوئی راہ باقی نہ تھی۔اصل حقیقت یہ تھی کہ مولوی صاحب اپنی اس مزعومہ مثال کے متعلق جس کے بل بوتے پر انہوں نے ڈھونگ رچا رکھا تھا خوب جانتے تھے کہ وہ چیلنج کی منشاء کے مطابق قبض الروح مع