حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 45 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 45

45 ہو سکتے۔کیونکہ تاج العروس اور اساس البلاغہ کے دونوں اقوال کا مفاد یہی ہے کہ توفی کے فعل کا فاعل جب خدا تعالیٰ ہو اور کسی ذی روح انسان کیلئے یہ فعل استعمال ہوا ہو تو ایسے مقام پر ہمیشہ توفی کے مجازی معنی موت ہی مراد ہوتے ہیں۔ایسے مقام پر حقیقی معنی پورا لینا ہرگز مراد نہیں ہو سکتے۔چنانچہ علم البیان کے جاننے والوں سے یہ امر مخفی نہیں کہ مجازی معنی وہاں مراد ہوتے ہیں جہاں حقیقی معنوں میں اس لفظ کا استعمال محال و متعذر ہو۔پس خدا تعالیٰ کے انسان کو تو فی کرنے کی صورت میں توفی کے حقیقی معنی پورا لینے کے اس جگہ محال ہونے کی وجہ سے از روئے علم بیان موت کے مجازی معنے متعین اور مخصوص ہو جائیں گے جو قبض روح کی ایک صورت ہے۔ہاں اگر نیند کیلئے اس مقام پر کوئی قرینہ موجود ہو تو استعارہ اس جگہ توفی کے معنی سلانے کے ہوتے ہیں۔اور یہ از روئے قرآن کریم قبض روح ہی کی ایک قسم ہے جو موت کے مشابہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں بھی روح قبض ہوتی ہے۔اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چیلنج میں مذکور شروط ثلاثہ کی موجودگی میں توفی کے مجازی معنی موت ایک محاورہ بن کر حقیقت کا رنگ پکڑ گیا ہے۔توفی کا اپنے مجازی معنی میں استعمال ایسے لفظ کے مجازی استعمال کی طرح نہیں جو محاورہ نہ بن چکا ہو۔محاورہ کلام من حیث اللغہ گو مجاز ہومگر عرف عام میں وہ ایک حقیقت ہی بن جاتا ہے۔ایک ضروری سوال اس جگہ ایک ضروری سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی محل پر تو فی مصدر کا کوئی فعل استعمال ہو تو ہم دونوں حقیقی معنوں میں پورا پورا لینا اور موت میں کس طرح امتیاز کر سکتے ہیں۔جواب اس صورت میں قرینہ دونوں معنوں میں سے ایک کی تخصیص کرے گا۔مثلاً موت کے معنی