حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 351
351 کسی بلا میں گرفتار۔باقی سب فوت ہو گئے۔مولوی رشید احمد اندھا ہوا۔اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا جیسا کہ مباہلہ کی دُعا میں تھا۔مولوی شاہ دین دیوانہ ہو کر مر گیا۔مولوی غلام دستگیر خود اپنے مباہلہ سے مرگیا اور جو زندہ ہیں اُن میں سے کوئی بھی آفات متذکرہ بالا سے خالی نہیں حالانکہ ابھی انہوں نے مسنون طور پر مباہلہ نہیں کیا تھا“۔ایک دوسرے مقام پر فرمایا:۔(حقیقۃ الوحی جلد ۲۲ صفحه ۳۱۳) ” اس مباہلہ پر آج کے دن تک بارہ برس اور تین مہینے اور کئی دن گذر چکے ہیں۔پھر اس کے بعد اکثر لوگوں نے زبان بند کر لی اور جو بد زبانی سے باز نہ آئے۔اُن میں سے بہت کم ہونگے۔جنہوں نے موت کا مزہ نہ چکھا۔یا کسی ذلت میں گرفتار نہیں ہوئے۔چنانچہ نذیرحسین دہلوی جوان کا سرغنہ تھا جو دعوت مباہلہ میں اوّل المدعوین ہے اپنے لائق بیٹے کی موت دیکھ کر ابتر ہونے کی حالت میں دُنیا سے گزر گیا۔رشید احمد گنگوہی جس کا نام دعوت مباہلہ کے صفحہ ۶۹ میں درج ہے۔مباہلہ کی دعوۃ اور بددعا کے بعد اندھا ہو گیا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا اور مولوی عبد العزیز لدھیانوی جس کا ذکر بھی اسی صفحہ 49 میں ہے بعد دعوت مباہلہ اس دنیا کو چھوڑ گئے۔اور ایسا ہی مولوی غلام رسول عرف رسل بابا جس کا ذکر دعوت مباہلہ کے صفحہ ہے میں ہے۔بعد دعوت مباہلہ اور بددعا مذکورہ بالا کے بمقام امرتسر طاعون سے مر گیا۔ایسا ہی مولوی غلام دستگیر قصوری جس کا ذکر اسی کتاب انجام آتھم کے صفحہ ۷۰ میں ہے اور جس نے خود بھی اپنا مباہلہ اپنی کتاب فیض رحمانی میں شائع کیا تھا۔وہ کتاب کی تالیف کے ایک ماہ بعد مرگیا اور اسکی موت کا یہی سبب نہیں کہ میں نے انجام آتھم کے صفحہ ۶۷ میں یعنی اس کی سترھویں سطر میں اس پر اور دوسرے مخالفوں پر جو شرارتوں سے باز نہ آویں اور نہ مباہلہ کریں بددعا کی تھی اور اُن پر خدا کا عذاب چاہا تھا بلکہ اس کا اپنا مباہلہ بھی اس کی موت کا سبب ہو گیا کیونکہ اس نے میرا اور اپنا ذکر