حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 15
15 بحث کیلئے آگے قدم بڑھا دیں۔ہمیں بہر حال منظور ہے۔اور تحریر کی اس لئے ضرورت ہے کہ تا بیانات فریقین تحریف سے محفوظ رہیں اور اس قدر مغز خوری کے بعد اظہارحق کی کوئی سند اپنے پاس ہو۔ورنہ اگر نری زبانی باتیں ہوں اور پیچھے سے خیانت پیشہ لوگ کچھ کا کچھ بنا دیں تو ان کا منہ بند کر نے کیلئے کون سی حجت یا سند ہمارے پاس ہوگی۔والسلام علی من اتبع الھدی۔مکرر واضح ہو کہ جلسہ بحث عید سے دوسرے دن قرار پانا چاہئے تا بوجہ تعطیل کے ملازمت پیشہ لوگ بھی حاضر ہو سکیں اور دور سے آنے والے بھی پہنچ سکیں یا جیسے مولوی صاحبان تجویز کریں۔المشتهر خاکسار میرزاغلام احمد ود دیانہ محلہ اقبال گنج ۲ مئی ۱۸۹۱ء ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۷۳۲۷۲) مولوی احمد اللہ کو مناظرہ کی دعوت حضرت اقدس جولائی ۱۸۹۱ء کو امرتسر کے بعض رؤساء کی خواہش پر امرتسر تشریف لے گئے۔وہاں اہلحدیث کے دو گروہ بن چکے تھے۔ایک فریق مولوی احمد اللہ صاحب کا تھا اور دوسرا غزنویوں کا۔حضرت اقدس نے بتاریخ کے جولائی ۱۸۹۱ء مولوی احمد اللہ صاحب کو بشرط قیام امن تحریری مناظرہ کی دعوت دی۔مگر مولوی صاحب اس پر آمادہ نہ ہوئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ مولوی صاحب کی جماعت کے چند افراد حضرت اقدس کی بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔ان داخل ہونے والوں میں حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب، حضرت میاں نبی بخش صاحب رفوگر اور حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب خاص طور قابل ذکر ہیں۔