حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 327 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 327

327 لہذا اس اشتہار میں خاص طور پر میاں محمد حسین بطالوی اور میاں محی الدین لکھو کے والے اور مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور ہر ایک نامی مولوی یا سجادہ نشین کو جو اس عاجز کو کا فرسمجھتا ہو مخاطب کر کے عام طور پر شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے تئیں صادق قرار دیتے ہیں تو اس عاجز سے مباہلہ کریں اور یقین رکھیں کہ خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا۔لیکن یہ بات واجبات سے ہوگی کہ فریقین اپنی اپنی تحریریں بہ ثبت دستخط گواہان شائع کر دیں کہ اگر کسی فرقہ پر لعنت کا اثر ظاہر ہو گیا تو وہ شخص اپنے عقیدہ سے رجوع کرے گا اور اپنے فریق مخالف کو سچا مان لے گا اور اس مباہلہ کے لئے اشخاص مندرجہ ذیل بھی خاص مخاطب ہیں۔محمد علی واعظ۔ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ۔منشی سعد اللہ مدرس لدھیانہ۔منشی محمد عمر سابق ملازم لدھیانہ۔مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ۔میاں نذیر حسین دہلوی۔حافظ عبدالمنان وزیر آبادی۔میاں میر حیدر شاہ وزیر آبادی۔میاں محمد اسحاق پٹیالوی۔“ مجموعہ اشتہارات۔جلد اصفحہ ۳۹۹) مولوی محمد حسین بٹالوی کا رد عمل مولوی محمد حسین بٹالوی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عداوت اور دشمنی مذہبی دنیا میں بہت معروف ہے۔آپ ہی تھے جنہوں نے تمام ہندوستان میں پھر کر قریباً دوسو مولویوں سے آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ حاصل کیا اور آپ ہی تھے جنہوں نے یہ الفاظ کہے تھے کہ۔میں نے ہی مرزا کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اسے نیچے گراؤں گا۔“ مولوی محمدحسین بٹالوی صاحب دن رات حضرت اقدس کو نقصان پہنچانے کی فکر میں مستغرق رہتے تھے۔آپ کی اس معاندانہ روش کے باعث حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو بطور خاص مباہلہ کی دعوت دی۔مگر مولوی صاحب مباہلہ کی دعوت قبول کرنے کے باوجود عملاً مباہلہ