حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 326
326 دیئے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں۔لیکن باعث بیمار ہو جانے کا تب اور حرج واقع ہونے کے ابھی تک وہ حصہ طبع نہیں ہوسکا۔سو میں مباہلہ کی مجلس میں وہ مضمون بہر حال سنادوں گا۔اگر اس وقت طبع ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو۔لیکن یادر ہے کہ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کے فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اول اس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت کیا جائے۔اور پھر اگر باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کیا جائے اور مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلام الہی میرے پر نازل ہوا۔وہ یہ ہے:۔نـظـر الـلـه الیک معطرا۔وقالو اتجعل فيها من يفسد فيها قال انى اعلم مالا تعلمون۔قالوا كتاب ممتلئى من الكفر والكذب قل تعالواندع ابناء نا ابناء كم ونساء نا و نساء كم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنته الله على الكاذبين يعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کر دے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلاوے۔تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر لعنت کریں جو کاذب ہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۵،۲۶۱) اس کے بعد دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر تمام مکذب و مکفر نامی مولویوں اور سجادہ نشینوں کو ایک اشتہار کے ذریعہ مباہلہ کا حسب ذیل چیلنج دیا۔