حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 325 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 325

325 مخالف مسلمانوں و مشائخ کو دعوت مباہلہ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف مولوی صاحبان تو آپ کو ابتدائے دعوی ہی سے مباہلہ کا چیلنج دے رہے تھے مگر آپ اس خیال سے کہ دو مسلمان فریق میں مباہلہ درست نہیں ہے اعراض فرماتے رہے۔لیکن جب علماء نے آپ کے خلاف کفر کا فتولی شائع کر دیا تو آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مباہلہ کرنے کی اجازت دی گئی۔چنانچہ آپ نے ۱۸۹۲ء میں تمام مکفر اور مکذب مولویوں اور مفتیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ۔مباہلہ کے لئے اشتہار ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ سے یا اپنی نانہی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہو گیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل از روئے قرآن و حدیث کے سناؤں۔اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں۔اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی۔اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے وہ تمام مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں۔اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے۔چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا۔اور نہ کافر کہنے سے باز آئے۔تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔میں اول یہ چاہتا تھا کہ وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار