حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 320 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 320

320 مقابلہ کرے گا اور ایسے طور کی دعا کرے گا تو وہ ضرور غلام دستگیر کی طرح میری سچائی کا گواہ بن جائے گا۔(اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۷۲،۴۷۱) ہندوستان کے تمام مشائخ، فقراء صلحاء اور مردان باصفا کو اپنے صدق یا کذب سے متعلق دعا تضرع اور استخارہ کے ذریعہ فیصلہ کروانے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔لیکن با وجود نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ وشواہد عقلیہ و آیات سماویہ پھر بھی ظالم طبع مخالف اپنے ظلم سے باز نہ آئے اور طرح طرح کے افتر اؤں سے مدد لے کر محض ظلم کی رو سے تکذیب کر رہے ہیں۔لہذا اب مجھے اتمام حجت کے لئے ایک اور تجویز خیال میں آئی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے اور یہ تفرقہ جس نے ہزار ہا مسلمانوں میں سخت عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے رو با صلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام مشائخ اور فقراء اور مردان باصفا کی خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعوی کے بارے میں دعا اور تضرع اور استخارہ سے جناب الہی میں توجہ کریں۔پھر اگر ان کے الہامات اور کشوف اور رویا صادقہ سے جو حلفا شائع کریں کثرت اس طرف نکلے کہ گویا یہ عاجز کذاب اور مفتری ہے تو بے بشک تمام لوگ مجھے مردود اور مخذول اور ملعون اور مفتری اور کذاب خیال کر لیں اور جس قدر چاہیں لعنتیں بھیجیں ان کو کچھ گناہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں ہر ایک ایماندار کو لازم ہوگا کہ مجھ سے پر ہیز کرے اور اس تجویز سے بہت آسانی کے ساتھ مجھ پر اور میری جماعت پر و بال آجائے گا۔لیکن اگر کشوف اور الہامات اور رویا صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز منجانب اللہ اور اپنے دعوی میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پر لازم ہوگا کہ میری پیروی کرے اور تکفیر اور تکذیب سے باز آوے