حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 286 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 286

286 اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہرو تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا اور خلاف واقعہ سراسر دروغ بیضر وغ اشتہارات چھپوائے سوان کیلئے تو رسالہ سرمہ چشم آریہ میں دوبارہ یہی چالیس دن تک اس جگہ رہنے کا پیغام تحریر کیا گیا ہے ناظرین اس کو پڑھ لیں لیکن یہ اشتہاراتمام حجت کی غرض سے بمقابل منشی جیوند اس صاحب جو سب آریوں کی نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلید ھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندر من صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورتی صاحب کا ہیں اور ماسٹر عبداللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عماد الدین لاہنر صاحب امرتسری اور پادری ٹھا کر داس صاحب مولف کتاب اظہار عیسوی شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہور ہیں اور برابر حاضر ر ہیں پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہومگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کر کے دکھلا دیں تو مبلغ پانسو روپیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گالیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بہ پایہ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا نا جائز اور غیر مسلم ہوگا بلکہ سیدھا راہ شناخت پیشگوئی کا