حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 221 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 221

221 اطلاع دیں کہ کس قدر ایسے آدمیوں کے دستخط وہ چاہتے ہیں جو اس بات کا اقرار کرتے ہوں جو حقیقت میں پیشگوئی پوری ہوگئی اور پادری صاحبوں کو شکست آئی۔ہم خوب جانتے ہیں کہ اگر چہ دس ہزار مسلمانوں کا بھی یہ تحریری بیان پیش کیا جائے کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی سچی نکلی ہے مگر تب بھی آتھم صاحب ہرگز ختم نہیں کھائیں گے۔اگر پادری صاحب ملامت کرتے کرتے ان کو ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی میرے مقابل پر قسم کھانے کیلئے ہر گز نہیں آئیں گے۔کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔میری سچائی کیلئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہ میں ہر گز قسم نہیں اٹھائیں گے اگر چہ عیسائی ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔۔۔اب ہم منتظر رہیں گے کہ پادری فتح مسیح کی طرف سے کیا جواب آتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسا جواب نہیں آئے گا جو ایمانداری اور حق پر مبنی ہو۔صرف جھوٹا عذر ہو گا جس کی بدبو دور سے آئے گی۔والسلام علی من اتبع ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۰۴،۲۰۳) پادری عبد اللہ آتھم ہر کوشش اور حیلہ کے جواب میں قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوا۔بلکہ قسم نے کھانے کا یہ عذب پیش کیا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے۔آتھم صاحب سے جب الھدی۔قسم کھانے کا باصرار مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے کہا۔اگر مجھے قسم دینا ہے تو عدالت میں میری طلبی کرائیے۔“ (نورافشاں ۱۰ اکتوبر ۱۸۹۴ء) اس بیان سے اس کا مقصد یہ تھا کہ بغیر جبر عدالت میں قسم نہیں کھا سکتا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا مفصل جواب دیا کہ حضرت عیسی جانتے تھے کہ قسم کھانا شہادت کی روح ہے۔وہ اس کو حرام قرار نہیں دے سکتے تھے۔الہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور