حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 213 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 213

213 امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وھم مهند ون۔پس کامل پیروی کرین والے اور ہر ایک ظلم سے بچنے والے جس کا علم محض خدا کو ہے بچائے جائیں گے اور کمز ور لوگ شہید ہو کر شہادت کا درجہ پاویں گے اور طاعون ان کے لئے تمحیص اور تطہیر کا موجب ٹھیرے گی۔اب میں دیکھوں کا کہ اس میری تحریر کے مقابل پر بغرض تکذیب کون قسم کھاتا ہے۔مگر یہ امر ضروری ہے کہ اگر ایسا مکذب اس کلام کو خدا کا کلام نہیں سمجھتا تو آپ بھی دعوی کرے کہ میں بھی طاعون سے محفوظ رہوں گا اور مجھے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا ہے تادیکھ لے افتراء کی کیا جزاء ہے۔والسلام علی من اتبع الھدی۔( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۵۸۲،۵۸۱) اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام مسلمان ملہموں ، آریوں کے پنڈتوں اور عیسائی پادریوں کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔(۳) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ، بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے، گوستر برس تک رہے، قادیان کو اُس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام انتوں کے لئے نشان ہے۔اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے ، طاعون دُور ہوسکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں۔پس جو شخص ان تمام فرقوں میں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے۔گویا خدا کی طرف