حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 192 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 192

192 ۶۔ویدوں کی الہامی حیثیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ویدوں کی الہامی حیثیت پر تنقید کرتے ہوئے آریوں کو وید سے کسی ایسی صرف ایک شرقی پیش کرنے کا چیلنج دیا جو پوری ہو چکی ہو۔فرمایا:۔پس اگر وید میں یقینی علم کی تعلیم دینے کے لئے کوئی پیشگوئی بیان کی گئی ہے اور وہ پوری ہو چکی ہے تو اس شرقی کو پیش کرنا چاہئے ورنہ وید کے بیان اور ایک گنوار نادان کے بیان میں کچھ فرق نہیں۔اور یہ ضروری امر ہے کہ جو کتاب خدا کی کتاب کہلاتی ہے وہ خدا کا عالم الغیب ہونا صرف زبان سے بیان نہ کرے بلکہ اس کا ثبوت بھی دے۔کیونکہ بغیر ثبوت کے نرایہ بیان کہ خدا عالم الغیب ہے انسان کے ایمان کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا اور ایسی کتاب کی نسبت شبہ ہو سکتا ہے کہ اس نے صرف سنی سنائی چشمه معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸) باتیں لکھی ہیں۔“ ے۔تبدیلی مذہب کیلئے ویدوں کا پڑھنا ضروری نہیں آریہ دھرم سے تعلق رکھنے والے بعض آریوں نے آریہ مذہب کو خیر باد کہتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔اس پر بعض آریہ صاحبوں نے ایسے نو مسلم آریوں پر یہ اعتراض کیا کہ ان کا مسلمان ہونا تب صحیح ہوتا کہ اول وہ چاروں وید پڑھ لیتے اور پھر ویدوں کے پڑھنے کے بعد چاہئے تھا کہ وہ آریہ دھرم کا اسلام سے مقابلہ کرتے۔اس کے باوجود اگر وہ پوری تحقیق و تفتیش کے بعد اسلام کو حق جانتے ہوئے قبول کرتے تو اس صورت میں ان کا مسلمان ہونا صحیح تسلیم کر لیا جاتا۔اس اعتراض کی تردید فرماتے ہوئے حضور نے درج ذیل چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔” اور یہ باتیں میری بے تحقیق نہیں بلکہ میں آریہ صاحبوں کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں۔اگر وہ میرے پر ثابت کر دیں کہ جس قدر ان کی فہرست میں مرد و