حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 183 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 183

183 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف مسلمان علماء ومشائخ کو عربی دانی میں مقابلہ کی دعوت دی بلکہ ایسے عیسائی پادریوں کو بھی مقابلہ کی دعوت دی جنہوں نے اسلام کو ترک کر کے عیسائیت قبول کر لی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضمیمہ نزول مسیح میں جو طویل عربی قصیدہ صرف پانچ دن میں لکھ کر شائع کیا اس کے بالمقابل مسلمان علماء کے علاوہ عیسائی پادریوں کو بھی قصیدہ لکھنے پر دس ہزار روپیہ انعام دینے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔چونکہ گالیاں اور تکذیب انتہاء تک پہنچ گئی ہے جن کے کاغذات میرے پاس ایک بڑے تھیلہ میں محفوظ ہیں اور یہ لوگ اپنے اشتہارات میں بار بار گذشتہ نشانوں کی تکذیب کرتے اور آئندہ نشان ما نگتے ہیں اس لئے ہم یہ نشان ان کو دیتے ہیں اور ایسا ہی عیسائیوں نے بھی مجھے مخاطب کر کے بار بار لکھا ہے کہ انجیل میں ہے کہ جھوٹے مسیح آئیں گے اور اس طرح پر انہوں نے مجھے جھوٹا مسیح قرار دیا ہے حالانکہ خود ان دنوں میں خاص لنڈن میں عیسائیوں میں سے جھوٹا مسیح پکٹ نام موجود ہے جو خدائی اور مسیحیت کا دعوی کرتا ہے اور انجیل کی پیشگوئی کو پورا کر رہا ہے۔لیکن آئندہ اگر کوئی مجھے قرار دینا چاہے تو اسے لازم ہے کہ میرے نشانوں کا مقابلہ کرے۔عیسائیوں میں بھی بہت سے مرتد مولوی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اگر پادری صاحبان اس تکذیب میں سچے ہیں تو وہ ایسا قصیدہ ان مولویوں سے پانچ دن تک بنوا کر دس ہزار روپیہ مجھ سے لیں اور مشن کے کاموں میں خرچ کریں مگر جو شخص تاریخ مقررہ کے بعد کچھ بکواس کرے گا یا کوئی تحریر دکھلائے گا ، اس کی تحریر کسی گندی نالی میں پھینکنے کے لائق ہوگی۔منہ “ ضمیمه نزول مسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۷ است )