حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 175 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 175

175 توحید سے متعلق کوئی تعلیم نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی حقیقت کے پیش نظر تمام آریہ کو دید سے تو حید ثابت کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا :۔تمام دنیا کے پردے میں گھوم آؤ۔تمام قوموں سے پوچھ کر دیکھ لو۔کوئی قوم ایسی نہ پاؤ گے کہ جو دید کو پڑھے اور اس کو موحدانہ تعلیم سمجھے۔ہم سچ سچ کہتے ہیں اور زیادہ باتوں میں وقت کھونا نہیں چاہتے کہ جو کچھ قرآن شریف کے دس ورق سے توحید کے معارف آفتاب عالمتاب کی طرح ظاہر ہوتے ہیں اگر کوئی شخص دید کے ہزار ورق سے بھی نکال کر دکھلا دے تو ہم پھر بھی مان جائیں کہ ہاں وید میں تو حید ہے اور جو چاہے حسب استطاعت ہم سے شرط کے طور پر مقرر بھی کرالے۔ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور خدائے واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بہر حال ادائے شرط مقررہ پر جس طور سے فیصلہ کرنا چاہیں حاضر ہیں لیکن ناظرین خوب یاد رکھیں اور اے آریہ کے نوعمر و نوگر فتارو! تم بھی یاد رکھو کہ وید میں ہرگز تو حید محض نہیں ہے۔وہ جابجا مشر کا نہ تعلیم سے مخلوط ہے۔ضرور مخلوط ہے۔کوئی اس کو بری نہیں کر سکتا اور زمانہ آتا جاتا ہے کہ اس کے سارے پر دے کھل جائیں۔سو تم لوگ اس خدا سے ڈرو جس کی عدالت سے کسی ڈھب روپوش نہیں ہو سکتے۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۲۱۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وید برکات روحانیہ اور محبت الہیہ تک پہنچانے سے قاصر اور عاجز ہے کیونکہ وید طریقہ حقہ خدا شناسی و معرفت نعماء الہی و بجا آوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق رضیہ و تزکیه نفس عن رزائل نفسیہ جیسے معارف کے صحیح طور پر بیان کرنے سے بکلی محروم ہے۔چنانچہ آپ نے انہیں وجوہات کے پیش نظر مندرجہ بالا تمام امور میں ویدوں کا قرآن سے مقابلہ کرانے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔