حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 163
163 ذاتی اعجاز قرآن شریف کا ثابت ہوتا ہے اور اس کے روحانی خواص بپایہ ثبوت پہنچتے ہیں۔قرآن شریف توحید کے کامل اور پر زور بیان میں اپنے اصول کو معقول اور مدلل طور پر ثابت کرنے میں ، اخلاق فاضلہ کے تمام جزئیات کے لکھنے میں، اخلاق ذمیمہ کے معالجات لطیفہ میں ، وصول الی اللہ کے تمام طریقوں کی توضیح میں ، نجات کی کچی فلاسفی ظاہر کرنے میں، صفات کاملہ الہیہ کے اکمل و اتم ذکر میں، مبدء و معاد کے پر حکمت بیان میں، روح کی خاصیتوں اور قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کے بیان میں، حکمت بالغہ الہیہ کے تمام وسائل پر احاطہ کرنے میں، تمام اقسام کی صداقتوں پر مشتمل ہونے میں، تمام مذاہب باطلہ کو عقلی طور پر رد کرنے میں ، حقوق عباد اللہ کے قائم کرنے میں ، تاثیرات و تنویرات روحانیہ میں اور پھر بایں ہمہ فصیح اور بلیغ اور رنگین عبارت میں اس کمال کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے کہ ہر یک حصہ اس کے بیان کا ان بیانات میں سے درحقیت معجزہ عظیمہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی آریہ کر سکتا ہے نہ کوئی عیسائی اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی اور شخص جو کسی مذہب کا پابند ہے۔اس جگہ دید سراسر بے ثمر ہے اور توریت وانجیل سراسر بے اثر۔یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا جو قرآن شریف نے کیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔قل لئن اجتمعت الجن والانس على ان ياتوا بمثل هذا القرآن لا ياتون بمثله و لو كان بعضهم لبعض ظهیرا۔یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن وانس اس بات پر متفق ہو جا ئیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیں کہ کرسکیں۔اگر چہ بعض بعضوں کی مدد بھی کریں۔اور جو کچھ قرآن شریف کے ذاتی معجزات اس جگہ ہم نے تحریر کئے ہیں اگر کسی آریہ وغیرہ کو اپنے دل میں کچھ گھمنڈ یا سر میں کچھ غرور ہو اور خیال ہو کہ یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ وید یا اس کی کوئی اور کتاب جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے