حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 93 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 93

93 فریق نے لکھا ہے کسی پہلی تفسیر کی کتاب میں ثابت ہو جائے تو یہ شخص محض ناقل متصور ہو کر مورد عتاب ہو۔لیکن اگر اس کے بیان کردہ حقائق و معارف قرآنی جو فی حد ذاتها صحیح اور غیر مخدوش بھی ہوں ایسے جدید اور نو وارد ہوں جو پہلے مفسرین کے ذہن ان کی طرف سبقت نہ لے گئے ہوں اور با ینہمہ وہ معنے من کل الوجوہ تکلف سے پاک اور قرآن کریم کے اعجاز اور کمال عظمت اور شان کو ظاہر کرتے ہوں اور اپنے اندر ایک جلالت اور ہیبت اور سچائی کا نور رکھتے ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو خداوند تعالیٰ نے اپنے مقبول کی عزت اور قبولیت ظاہر کرنے کیلئے اپنے لدنی علم سے عطا فرمائی ہیں۔یہ ہر چہار محک امتحان جو میں نے لکھی ہیں یہ ایسی سیدھی اور صاف ہیں کہ جو شخص غور کے ساتھ ان کو زیر نظر لائے گا وہ بلاشبہ اس بات کو قبول کر لے گا کہ متخاصمین کے فیصلہ کیلئے اس سے صاف اور سہل تر اور کوئی روحانی طریق نہیں اور میں اقرار کرتا ہوں اور اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو گیا تو اپنے ناحق پر ہونے کا خود اقرار شائع کر دوں گا اور پھر میاں نذیر حسین صاحب اور شیخ بٹالوی کی تکفیر اور مفتری کہنے کی حاجت نہیں رہے گی اور اس صورت میں ہر ایک ذلت اور توہین اور تحقیر کا مستوجب وسزاوار ٹھہر ونگا اور اسی جلسے میں اقرار بھی کر دوں گا کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور میرے تمام دعاوی باطل ہیں اور بخدا میں یقین رکھتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ میرا خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا اور کبھی مجھے ضائع ہونے نہیں دے گا۔“ لیکن آپ کے اس چیلنج کو کسی نے قبول نہ کیا۔آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰۰)