حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 94 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 94

94 مولوی محمد حسین بٹالوی کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب آسمانی فیصلہ میں جن علماء کے نام لے کر آسمانی فیصلہ کی طرف دعوت دی ان میں سے دوسرا نمبر مولوی محمد حسین بٹالوی کا تھا۔اگر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب واقعی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس مقابلہ کیلئے میدان میں نکل کھڑے ہوتے تاکہ جھوٹ اور بیچ میں فیصلہ ہو جاتا مگر ہوا یہ کہ مولوی صاحب مخالفت الزام تراشی اور دشنام دہی میں پہلے سے بھی بڑھ گئے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حق اور باطل میں فیصلہ کیلئے مولوی صاحب کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کا درج ذیل چیلنج دیا۔"عاقل سمجھ سکتے ہیں کہ منجملہ نشانوں کے حقائق اور معارف اور لطائف حکمیہ کے بھی نشان ہوتے ہیں جو خاص ان کو دیئے جاتے ہیں جو پاک نفس ہوں اور جن پر فضل عظیم ہو جیسا کہ آیت لا يمسه الا المطهرون۔اور یہ آیت وَ مَنْ يُوتَ الحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خِيْراً كَثِيراً - بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے۔سو یہی نشان میاں محمد حسین کے مقابل پر میرے صدق اور کذب کے جانچنے کیلئے کھلی کھلی نشانی ہوگی اور فیصلہ کے لئے احسن انتظام اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ اس جلسہ کے چند سورتیں قرآن کریم کی جن کی عبارت استنی آیت سے کم نہ ہو تفسیر کیلئے منتخب کر کے پیش کریں۔اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورۃ ان میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیار امتحان ٹھہرائی جائے اور اس تفسیر کیلئے یہ امر لازمی ٹھہرایا جاوے کہ بلیغ فصیح زبان عربی اور منفی عبارت میں قلمبند ہو اور دس جزو سے کم نہ ہو اور جس قدر اس میں حقایق اور معارف لکھے جائیں وہ نقل عبارت کی طرح نہ ہو۔بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں اور بایں ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کی قوت اور