حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 80 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 80

80 ملتوی رہے گی۔شامی صاحب کے نکاح کی یہ تجویز خاکسار کہیں کرا دیتا تو ان سے جس قدر چاہتا کا دیانی کے ردو مذمت میں نظم و نثر جیسی ان کو آتی ہے لکھوا لیتا۔لیکن یہ پیشہ دلالی کا دیانی صاحب کا ہی خاصہ ہے جس کے ذریعہ سے انہوں نے کئی نام نامی القاب گرامی مولوی حکیم وغیرہ وغیرہ سے اکثر سکنائے پنجاب واقف ہیں ایسے باطل اور ناجائز ذرائع سے کام نکالنا ہی ان کا شیوہ معجزہ ہے۔لہذا یہ جرأت مجھ سے نہ ہوسکی اور میں نے ان کو اس طرح کی امید نہ دلائی۔“ (اشاعۃ السنہ۔جلد ۱۵ صفحہ۲۶۱،۲۵۸) مولوی محمد حسین بٹالوی نے مذکورہ بالا بیہودہ خیالات کا اظہار جس شامی عرب کے متعلق کیا ہے وہ وہ شخص ہے جس نے حضرت اقدس کی عربی تالیف لتبلیغ کو پڑھ کر بے ساختہ کہا'' واللہ ایسی عبارت عرب بھی نہیں لکھ سکتا اور جب اس کے آخر میں شائع شدہ آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں مدحیہ قصیدہ دیکھا تو وہ پڑھ کر بے اختیار رونے لگا اور کہا خدا کی قسم! میں نے اس زمانہ میں عربوں کے اشعار بھی کبھی پسند نہیں کئے مگر ان اشعار کو میں حفظ کروں گا۔اور اتنے متاثر ہوئے کہ آخر کار قادیان آ کر آپ کی بیعت کر لی۔غور کا مقام ہے کہ اگر بٹالوی صاحب کا مذکورہ بیان درست ہے تو کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں کیسے رہ سکتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے شخص کو عربی ممالک کیلئے بطور مبلغ تجویز فرما سکتے تھے۔اسی اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ثم من اعتراضات العلماء وشبهاتهم التى اشاعونا في الجهلاء ان هذا الرجل لا يعلم شيئا من العربية۔بل لا حظ له من الفارسيه فضلا من دخله في اساليب هذه اللهجه ومع ذالك مدحوا انفسهم وقالوا انانـحـن مـن الـعـلـمـاء المتبحرين وقالوا انه كلما كتب في اللسان